بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں خاران میں سیندک پروجیکٹ کے گاڑیوں اورجھاؤ میں موبائل ٹاور پر حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔
ترجمان کا کہناتھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے خاران میں سیندک پروجیکٹ کی گاڑیوں اورجھاؤ میں موبائل ٹاور کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے سرمچاروں نے 26 جون کی شام خاران میں گواش وڈھ کے قریب استحصالی منصوبے سیندک پروجیکٹ کے گاڈیوں پر حملہ کیا۔ ڈرائیوروں کو بلوچ ہونے کے ناطے تنبیہہ کرکے چھوڑ دیا گیا۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ یہ گاڑیاں کراچی سے سیندک پروجیکٹ کے لئے مشینری اور دوسرے سازوسامان لے جارہے تھے، جو کہ خاران سی پیک لِنک روڈ سے ہوکر گْزرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملہ چین اور دوسرے ممالک سمیت تمام سرمایہ کاروں کیلئے ایک وارننگ ہے۔ بلوچستان ایک جنگ زدہ اور مقبوضہ ملک ہے جہاں بلوچ قوم اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ بلوچ قوم کی مرضی و منشا کے بغیر یہاں کوئی بھی منصوبہ اور کسی کا سرمایہ محفوظ نہیں ہوگا۔
ترجمان کا کہناتھاکہ آواران کے علاقے جھاؤ میں 26 جون کو سرمچاروں نے جھل جھاؤ سوڑ میں عطا محمدمیتگ میں پاکستان کی موبائل کمپنی یوفون کے ٹاور اور تمام مشینریز نذر آتش کر دئیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی ایل ایف ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ بلوچستان کی آزادی تک قابض پاکستانی فوج اور ایسے استحصالی منصوبے ہمارے نشانے پر ہیں۔