پاکستان کے لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کی نگراں حکومت کی جانب سے تین اضلاع میں 45 ہزار ایکڑ اراضی 20 سالہ لیز پر پاکستانی فوج کے حوالے کرنے کے فیصلے کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ یہ معاہدہ دونوں یعنی حکومت اور فوج کے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے تحت فوج کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے مقصد کے لیے بھکر، خوشاب اور ساہیوال میں زمین کی ملکیت چاہتی تھی۔
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے چار ایک جیسی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نگراں حکومت کے پاس الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 230 کے کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ سے متعلق اقدام اور پالیسی کے حوالے سے کسی بھی طرح سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا آئینی اور قانونی اختیار نہیں ہے۔
حکومت کے اس اقدام کے خلاف یہ درخواستیں پبلک انٹرسٹ لا ایسوسی ایشن آف پاکستان، ایک غیر منافع بخش قانونی تنظیم، اور دیگر نے دائر کی تھیں، درخواست گزاروں کی جانب سے احمد رفیع عالم، فہد ملک اور زوہیب بابر نے نمائندگی کی۔
پنجاب کی نگراں حکومت نے بھکر، خوشاب اور ساہیوال کے اضلاع میں 45 ہزار 267 ایکڑ اراضی 20 سال کے لیز پر فوج کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جبکہ اس معاہدے کو مزید 10 سال تک بڑھانے کا آپشن بھی تھا۔
جسٹس عابد حسین چٹھہ نے 29 مارچ کو غیر قانونی لین دین پر حکم امتناع جاری کیا تھا اور 29 مئی کو حتمی فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
جج نے گزشتہ سال 14 اکتوبر کو وزارتی کمیٹی کے اجلاس اور نگراں کابینہ کے 9 فروری کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں اور نئے اسٹیٹمنٹ آف کنڈیشنز (ایس آف کنڈیشنز) کی منظوری پر مشتمل لین دین کو غیر قانونی اور بغیر قانونی حیثیت کا قرار دیا۔
جسٹس چٹھہ نے حکم دیا کہ اس کے بعد کے تمام نوٹیفیکیشنز اور پیش رفت بشمول پاکستان آرمی کے حق میں سرکاری اراضی کی منظوری یا منتقلی بھی کالعدم ہوگئی ہے۔