مقبوضہ بلوچستان کے ضلع پنجگور کے علاقے پروم میں 26 اپریل کوپاکستانی فورسز کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد اپنے ساتھیوں سمیت شہید ہونے والے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے میجر نورا بلوچ نے دوران جنگ اپنا آخری پیغام ریکارڈ کروایا تھا جسے آج جاری کیا گیا۔
لاہور کے کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ نورا بلوچ جو کہ اپنے دوستوں کے درمیان پیرک کے نام سے مشہور تھا کے بارے میں بی ایل ایف نے ایک بیان میں کہا کہ نورا گذشتہ دہائی سے تنظیم سے وابستہ تھے اور انہوں نے آزادی کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔
نورا بلوچ نے اپنا آخری پیغام بلوچی زبان میں جاری کیا جس میں وہ بلوچ قوم اور بالخصوص بلوچ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہے کہ بلوچستان کی جنگ آزادی میں اپنا حصہ شامل کریں۔
پیغام میں وہ مزید کہتے ہے کہ آج ہم پروم میں مقامی ڈیتھ سکواڈ اور فوج کے گھیرے میں آچکے ہیں، اب تک ہمارا ایک ساتھی شہید اور ایک زخمی ہوچکا ہے، ہم پاکستانی فوج کے محاصرہے میں ہیں اور وہ مارٹر گولے فائر کر رہے ہیں۔
بلوچ(قوم)بلوچ نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس جنگ کو اپنا سمجھیں۔ (اب) یہ جنگ ان کے کندھوں پر ہے اور جونیئر ساتھی اس جنگ کو آگے بڑھائیں۔ شاید اب ہم ساتھ نہ رہیں، اکھٹے نہ رہیں، لیکن ہم سب اکٹھے ہیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔
ہم نے اپنی بساط و قوت کے مطابق اپنا فرض ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔
میری ماں، بہن اور چھوٹے اس بات پر غمگین نہ ہوں کہ ہم مارے جارہے ہیں۔ آج آپ لوگوں کو فخر ہونا چاہیے کہ ہم ننگ اور وطن کے لئے مارے جارہے ہیں۔ ہم نے ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہے اور ایسا کارنامہ انجام دے رہے ہیں کہ انشااللہ آپ لوگوں کا سر نہ جھکے، نہ آئندہ جھکے گا۔
اپنی پسماندگاں کو سنبھالیں۔ اس جنگ کو اپنا سمجھیں۔ یہ نہ ہوکہ ہماری شہادت کے بعد اس جنگ سے کنارہ کش ہوجائیں۔ یہ جنگ آپ لوگوں کا ہے اسے آگے بڑھائیں اور(جنگ میں شامل نوجوان)آپ کے بیٹے اور بھائی ہیں۔ اور ہم یکجاہ اور اکٹھے ہیں۔ یہاں نہیں تو اس دنیا میں اکٹھے ہیں۔
میں اپنے سینئر ساتھیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنے تنظیم اور اداروں کو مضبوط کریں۔ اداروں کے لئے کام کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ یہ جنگ ختم ہو یا کمزور ہو۔
یہ جنگ ہے اس میں لوگ شہید ہوتے ہیں۔ سر کٹتے ہیں۔ ہمارے لیڈر شہید ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ یہ جنگ اپنی منزل کو پہنچے گا، ہم کامیاب ہوں گے۔
ساتھیو! پریشان نہ ہونا۔ اس جنگ کو آگے بڑھائیں۔ جن چھوٹے دوستوں کے ہمراہ رہے ہیں وہ اس جنگ کو اپنے کندھوں پر لیں اور اس جنگ کو مضبوط اور محکم انداز میں آگے بڑھائیں۔
ہمارے ساتھیوں کی لاشیں ہمارے سامنے ہیں۔ زخمی دوست آنکھوں کے سامنے ہیں۔ ان کا لہو ہماری ایمان کو مضبوط کررہا ہے۔ انشاء اللہ ہم دشمن کے خلاف آخری گولی تک لڑیں گے۔آپ لوگ بالکل پریشان نہ ہوں۔
آخر میں نورا بلوچ نے دوستوں کو رخصتی والے الفاظ میں کہا کہ، ہم اور آپ اکٹھے ہیں۔