اقوام متحدہ کے ترقیاتی فنڈ (یو این ڈی پی) کے ایک جائزے میں بتایا گیا ہے کہ پچھلی ایک دہائی کے دوران خواتین کے خلاف امتیازی رویوں اور صنفی تعصب میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی ہے۔
اقوام متحدہ کی ترقیاتی فنڈ کی ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق خواتین کے خلاف امتیازی سلوک اور تعصب پرمبنی رویوں میں پچھلی ایک دہائی کے دوران کوئی بہتری نہیں ہوئی ہے۔ کچھ سال قبل خواتین کے حقوق کی وکالت کرنے والی ایک تنظیم ’می ٹو‘ کو خواتین کے حقوق کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا لیکن تعصبات اور خواتین مخالف رجحانات کو تبدیل کرنے میں کچھ زیادہ بہتری نہیں آئی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایک تجزیئے کے مطابق تقریباً نوے فیصدافراد میں کم از کم ایک قسم کا تعصب ضرور موجود ہے اور اس کے نتیجے میں مرد اور عورت دونوں پر ہی اس کے اثرات یکساں طور پر مرتب ہوتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارے نے عالمی اقدار کے سروے یا ورلڈ ویلیوز سروے پر مبنی معلومات کا ڈیٹا استعمال کرتے ہوئے یہ جائزہ لیا ہے کہ دنیا بھر میں اقدار اور عقائد کس طرح تبدیل ہو رہے ہیں۔ یہ ورلڈ ویلیوز سروے ایک بین الاقوامی پراجیکٹ ہے۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یو این ڈی پی نے بتایا ہے کہ خواتین کے حقوق کے لیے اٹھنے والی می ٹو جیسی طاقتور عالمی اور مقامی مہمات کے باوجود گزشتہ ایک دہائی میں خواتین کے خلاف روا رکھے جانے والے متعصب رویوں میں کوئی بہتری نہیں ہوئی ۔