چین 2019 سے کیوبا میں ایک جاسوسی اڈہ چلا رہا ہے،امریکی حکام

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بائیڈن انتظامیہ کے حکام کا کہنا ہے کہ چین 2019 سے کیوبا میں ایک جاسوسی اڈہ چلا رہا ہے جو بیجنگ کا عالمی سطح پر خفیہ معلومات جمع کرنے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔

خبر رساں ادارے "ایسو سی ایٹڈ پریس” کے مطابق بائیڈن انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کو کیوبا سے چین کی جاسوسی اور کچھ عرصے سے پوری دنیا میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی کارروائیوں کی ایک بڑی کوشش کے بارے میں علم ہوا ہے۔

اہلکار کے مطابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے چینی جاسوسی کارروائیوں کو ناکام کرنے کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیاہے۔ واشنگٹن سمجھتا ہے کہ اس نے سفارت کاری اور دیگر اقدامات سے اس سلسلے میں کچھ پیش رفت کی ہے۔

چین کے جاسوسی اڈے کی موجودگی کی تصدیق اس وقت ہوئی جب جمعرات کو امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے رپورٹ دی کہ چین اور کیوبا نے ایک الیکٹرانک ایو ڈراپنگ اسٹیشن کے قیام کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین نے مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر مالی مشکلات کے شکار کیوبا کو نقد اربوں ڈالر دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے بارے میں کہا ہے کہ یہ درست نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کو نشریاتی ادارے ’ایم ایس این بی سی‘ سے گفتگو میں کہا کہ انہوں نے وہ پریس رپورٹ دیکھی ہے لیکن یہ درست نہیں ہے۔

ان کے بقول بائیڈن انتظامیہ پہلے دن سے دنیا بھر میں چین کے اثر و رسوخ کی سرگرمیوں کے بارے میں فکر مند ہے۔ یقینی طور پر نصف کرہ اور اس خطے میں اسے بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔

’اے پی‘ کے مطابق انتظامیہ کے اہلکار نے کہا کہ امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے طے کیا تھا کہ کیوبا سے چینی جاسوسی ایک ایسا معاملہ ہے جس پر مستقل نظر رکھی جائے البتہ اس میں کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

کیوبا کے نائب وزیرِ خارجہ کارلوس فرنانڈس ڈی کوسیو نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کی تردید کی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment