ایران نے امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ منصوبہ مسترد کر دیا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ مسترد کر دیا ہے اور اپنی شرائط پیش کر دی ہیں۔

پریس ٹی وی کے مطابق اسے ایک سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے بتایا ہے کہ ایران صدر ٹرمپ کو اس جنگ کے خاتمے کے وقت کا تعین نہیں کرنے دے گا۔

اس عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ ’ایران اس جنگ کا اختتام اپنی مرضی کے وقت پر کرے گا جب اس کی شرائط مان لی جائیں گی۔‘

خیال رہے اس سے قبل متعدد میڈیا اداروں نے رپورٹ کیا تھا امریکہ نے بذریعہ پاکستان ایران کو یہ مجوزہ منصوبہ بھیجا ہے۔

ایرانی نشریاتی ادارے کے مطابق سیاسی و سکیورٹی عہدیدار نے اسے مزید بتایا کہ واشنگٹن متعدد سفارتی ذرائع سے مذاکرات کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے پروپوزل پیش کر رہا ہے جو ایران کے نزدیک ’حدود سے تجاوز‘ کر رہے ہیں۔

اس عہدیدار نے پریس ٹی وی کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایران کی پانچ شرائط بھی پیش کی ہیں:

دشمن کی طرف سے ’جارحیت اور قتلِ عام‘ کا مکمل خاتمہ
ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کو روکنے کے لیے مربوط طریقہ کار
جنگ میں ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ضمانت
خطے میں تمام محاذوں اور ’مزاحمتی گروہوں‘ کے خلاف جنگ کا خاتمہ
بین الاقوامی برادری آبنائے ہرمز پر ایران کا اختیار تسلیم کرے

دوسری جانب پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’کوئی بالواسطہ یا بلاواسطہ مذاکرات نہیں ہو رہے۔‘

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ’کچھ دوست ممالک تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ وہ اس مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر ثابت ہوں گے۔‘

امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی فوج نے اس کی تردید کی تھی۔

خیال رہے گذشتہ روز پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ان کا ملک اس تنازع کے لیے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔

Share This Article