ایران کے بوشہر جوہری پلانٹ پر اسرائیل کا دوبارہ حملہ،آئی اے ای اے کی تصدیق، تحمل کی اپیل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا ہے، جسے ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل کے جاری حملوں کا حصہ قرار دیا ہے۔ ایران کے ایٹمی توانائی کے ادارے (AEOI) کے مطابق تازہ حملے میں نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی تنصیب کو کوئی تکنیکی یا مالی نقصان پہنچا۔

ادارے نے بتایا کہ 17 مارچ کو بھی بوشہر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم اس وقت بھی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ AEOI نے ان حملوں کو “پرامن جوہری تنصیبات پر خطرناک کارروائیاں” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے نتائج پورے خطے، خصوصاً خلیجی ممالک کے لیے “ناقابلِ تلافی” ہو سکتے ہیں۔

بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے بھی تصدیق کی کہ ایران نے ادارے کو بوشہر پلانٹ کے احاطے میں ایک اور میزائل گرنے کی اطلاع دی ہے۔ IAEA کے مطابق پاور پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے اور عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں۔

ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے جوہری تنصیبات کی حفاظت پر زور دیتے ہوئے تمام فریقوں سے “انتہائی تحمل” کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے تہران میں نئے فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جن کا ہدف ان کے بقول “ایرانی دہشت گرد حکومت کا بنیادی ڈھانچہ” ہے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق تہران کے مشرق، شمال اور مرکزی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جبکہ شہر کے مرکز سے اٹھتے سیاہ دھوئیں کے بادل کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے شہر اصفہان میں واقع مرکزی دھماکہ خیز مواد تیار کرنے والی تنصیب کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ تنصیب ہتھیاروں کے لیے اہم مواد تیار کرنے میں استعمال ہوتی تھی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اس مقام کو پہلے بھی ٹارگٹ کیا جا چکا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں ایران اس کی صلاحیت بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تازہ کارروائی میں درجنوں دیگر اہداف بھی نشانہ بنائے گئے، جن میں بیلسٹک میزائل لانچ سائٹس، ہتھیار سازی کی تنصیبات، فضائی دفاعی نظام شامل ہیں۔

بوشہر پلانٹ ایران کا واحد فعال جوہری پاور اسٹیشن ہے، جو روس کی مدد سے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس تنصیب پر بار بار حملوں اور تہران و اصفہان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتائج پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Share This Article