بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے پریس ریلیز میں تربت میں ایک ریاستی ایجنٹ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے کیچ کے مرکزی شہر تربت میں فائرنگ کرکے ریاستی ایجنٹ کو ہلاک کیا۔
انہوں نے کہا کہ سات جون کو رات نو بجے سنگانی سر ہسپتال محلہ میں سرمچاروں نے فائرنگ کرکے ریاستی ایجنٹ سلطان کو ہلاک کیا۔ فائرنگ کی زد میں آکر ایک راہگیر محمد حنیف زخمی ہوا ہے، جس کا ہمیں بے حد افسوس ہے۔ ہم عام شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاستی کارندوں اور مشکوک لوگوں سے دور رہیں۔
ترجمان کا کنا تھا کہ مذکورہ ریاستی ایجنٹ نے نان بائی کے روپ میں ایک ٹھکانہ بنا کر جاسوسی کا کام شروع کیا تھا۔ بی ایل ایف کی انٹیلیجنس ونگ نے اس پر نظر رکھ کر تمام شواہد اکھٹے کرنے کے بعد نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھیوں کے نام بھی سرمچاروں کو مل چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل ایف اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ بلوچستان کی آزادی تک پاکستانی فورسز، تنصیبات اور ایجنٹوں پر حملے جاری رہیں گے۔