عمران خان کے دور کے خاتمے کے بعد اس کے اور سابقہ اسٹیبلشمنٹ کے گن گانے والوں کو آہستہ آہستہ چھپ کرانے کا سلسلہ جاری ہے ۔
9 مئی کو فوجی تنصیبات و املاک پر حملوں کے بعد پی ٹی آئی کیخلاف مکمل کریک ڈائون جاری ہے اور مرکزی لیڈر شپ پارٹی دھڑا دھڑ استعفیٰ دیکر پی ٹی آئی سے تعلقی کا اظہار کر رہی ہیں۔جبکہ عمران خان کے گن گانے والے صحافی متعدد صحافی پاکستان چھوڑ چکے ہیں جبکہ کئی کو لاپتہ کیا گیا ہے ۔
اس سلسلے میں گذشتہ روز عمران ریاض کی گمشدگی کی تصدیق ہوگئی تھی اب ایک اور صحافی سمیع ابراہیم کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
صحافی سمیع ابراہیم کے فیملی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بارے میں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سمیع ابراہیم کو پولیس نے گرفتار کیا ہے لیکن اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صحافی کے خاندان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، ابھی کوئی نتیجہ اخذ کرنا یا قیاس آرائی کرنا قبل از وقت ہوگا۔
سمیع ابراہیم کے بھائی علی رضا نے ان کے اغوا کی شکایت آبپارہ پولیس اسٹیشن میں درج کروائی ہے۔
درخواست میں بتایا گیا کہ سمیع ابراہم کو سیکٹر جی-6 میں سکس ایونیو کے سروس روڈ پر 4 کاروں نے روکا جب وہ بول ٹی وی کے دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہے تھے، گاڑیوں میں سے 8 سے 10 افراد نکلے اور انہیں زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔
مزید بتایا گیا کہ حادثے کے وقت سمیع ابراہیم کا ڈرائیور ارشد ان کے ساتھ تھا، ان لوگوں نے ڈرائیو کو چھوڑ دیا اور سمیع ابراہیم کو لے گئے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ وہ لوگ ڈرائیور اور سمیع ابراہیم کے تین موبائل فون اور کار کی چابیاں بھی لے گئے۔
واضع رہے کہ عمران خان کے گن گانے والے تمام صحافی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کو جائز قرار دے چکے ہیں۔