ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے خطے میں بڑی سفارتی پیش رفت کے بعد ملک کے سیکیورٹی چیف علی شامخانی کی جگہ علی اکبر احمدیان کو نیا سربراہ مقرر کردیا۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی نے ملک کے اعلیٰ سیکیورٹی کا عہدہ پاسداران انقلاب کا جنرل مقرر کردیا ہے جبکہ علی شامخانی کو تقریباً ایک دہائی بعد خلیجی ممالک کے ساتھ سفارتی پیش رفت کے بعد تبدیل کردیا گیا ہے۔
ایران کی صدارتی آفیشل ویب سائٹ میں رپورٹ کیا گیا کہ ’علی اکبر احمدیان کو صدارتی فرمان کے ذریعے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سیکریٹری تعینات کردیا گیا ہے‘۔
ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کا ادارہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو رپورٹ کرتا ہے، جو تمام اہم فیصلوں کی حتمی منظوری دینے والی شخصیت ہیں۔
صدارتی فرمان میں کہا گیا ہے کہ علی اکبر احمدیان نئی عہدے سے قبل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں اور اس وقت پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے اسٹریٹجک سینٹر کے انچارج تھے۔
علی اکبر احمدیان اس سے قبل سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشاورتی بورڈ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ایران کی سیکیورٹی کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے والے جنرل ماضی میں پاسداران انقلاب نیوی فورسز اور اس کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف بھی رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2007 میں طاقت ور سیکیورٹی فورسز کے جوائنٹ اسٹاف کے سربراہ کی حیثیت سے علی اکبر احمدیان کو امریکا نے بلیک لسٹ قرار دیا تھا۔