بلوچستان کے مکران ڈویژن کیلئے ایران سے 100 میگا واٹ اضافی بجلی معاہدے کے باوجودطویل لوڈ شیڈنگ سے عوام نے احتجاجاًروڈ بلاک کردیا۔
سی پیک حب شہر گوادر سے اطلاعات ہیں کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے گوادر کو مزید 100 میگاواٹ اضافی بجلی کے منصوبے کے افتتاح کے باوجود گوادر شہر میں بجلی کا بحران ختم نہ ہوسکا۔ بجلی کے ستائے ہوئے شہریوں نے سڑکیں بلاک کردیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق ایران سے 100 میگاواٹ اضافی بجلی کی فراہمی کے باجود بھی گوادر شہر میں بجلی کا بحران بدستور جاری ہے۔ کیسکو روازنہ 6 سے 7 گھنٹے کے دورانیہ کے ساتھ بجلی کی لوڈشیڈنگ کررہا ہے جبکہ دوسری طرف بجلی کی فراہمی کا نظام بھی بوسیدہ ہوچکا ہے، جس کے نتیجے میں آئے روز تاروں کا ٹوٹنا اور بجلی کے ٹرانسفارمرز کا جلنا معمول بن گیا ہے۔ جبکہ شہر کے مشہور تجارتی مرکز ملا فاضل کے اطراف میں واقع رہائشی علاقوں میں بجلی کے ٹرانسفارمرز جلنے کے باعث متاثرہ علاقوں میں گزشتہ کئی دنوں سے بجلی کی سپلائی منقطع ہے جس پر بجلی کے ستائے ہوئے شہریوں نے باہر نکل کر ٹائر جلائے اور سڑکیں بلاک کردیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایران سے مزید 100 میگاواٹ بجلی کا معاہدہ مکران میں عوام کے لیے سہولت کے بجائے اذیت کا باعث بن گیا اور اضافی لوڈشیڈنگ اب پورے دن کی بندش میں بدل گئی ہے۔
اس وقت حالت یہ ہے کہ مکران ڈویژن کے تینوں اضلاع کیچ، گوادر اور پنجگور میں لوڈشیڈنگ اور ٹرپنگ گزشتہ دو دنوں سے شھریوں کے لیے اذیت ناک معمول بنادیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے 18 مئی کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے ہمراہ پاکستان ایران بارڈر پر ایران سے مکران ڈویژن کو مزید 100 میگاواٹ اضافی بجلی کی فراہمی کے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کیا تھا جو سسٹم میں بھی داخل کیا گیا لیکن پورا مکران ڈویژن اس منصوبے سے بوجوہ فیضیاب نہیں ہورہا ہے۔
اس نئے معاہدہ سے خیال کیا جارہا تھا کہ اب لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوگااور اذیت ناک ٹرپنگ سے عوام کا جان چھوٹ جائے گا لیکن جس دن معاہدہ انجام پایا اس دن سے پورے ڈویژن میں نہ صرف لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھا کر متعدد فیڈر میں پورے دن بجلی کی بندش کردی گئی ہے بلکہ جس وقت اجس ایریا میں بجلی فراہم کی جاتی ہے وہاں ہر دس سکینڈ میں ٹرپنگ، وولٹیج کم اور زیادہ ہونے سے قیمتی آلات کا جلنا معمول بنتا جارہا ہے۔