سپریم کورٹ آف پاکستان کا عمران خان کو فوری رہا کرنے کا حکم

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی قرار دی اور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتاری غیرقانونی قرار دیتے ہوئے ان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سپریم کورٹ کا 3 رکنی بینچ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ گرفتاری کو وہیں سے ریورس کرنا ہوگا جہاں سے ہوئی تھی، ساتھ ہی چیئرمین پی ٹی آئی کو ساڑھے 4 بجے تک پیش کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے عمران خان کو ایک گھنٹہ تاخیر کے بعد ساڑھے 5 بجے عدالت پہنچا دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے حکم کے مطابق پولیس نے عمران خان کو سپریم کورٹ پہنچا دیا اور انہیں ججوں کے دروازے سے اندر آکر عقبی راستے سے لایا گیا اور عمران خان خود چل کرعدالت پہنچے۔

عدالت عظمیٰ میں جب سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عمران خان کو روسٹرم پر طلب کرلیا۔

چیف جسٹس نے عمران خان سے کہا کہ آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی، ملک میں آپ کی گرفتاری کے بعد تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں، ہم ملک میں امن چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ بات کی جا رہی ہے کہ آپ کے کارکنان غصے میں باہر نکلے، ہم آپ کوسننا چاہتے ہیں، بتائیں کیا آپ 9 مئی کو عدالت میں بائیومیٹرک روم میں موجود تھے، جب ایک شخص کورٹ آف لا میں آتاہے تو اس کا مطلب وہ کورٹ کے سامنے سرنڈرکرتا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان کی گرفتاری غیرقانونی تھی، عمران خان کی گرفتاری کو ہم واپس کر رہے ہیں اور عمران خان کو ہدایت کی ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کو سپریم کورٹ کی نگرانی میں گیسٹ ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا اور آئی جی عمران خان کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

عدالت نے کہا کہ عمران خان سپریم کورٹ کے زیر سایہ پولیس لائنز میں رکھے جائیں گے اور گرفتاری تصور نہیں ہوں گے۔

عمران خان نے استدعا کی کہ انہیں بنی گالہ میں رہنے کی اجازت دی جائے تاہم چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کی نگرانی میں ہیں، ہم نہیں چاہتے کہ آپ کو کوئی نقصان پہنچے، سرکار تمام سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان کی سیکیورٹی کی گارنٹی سرکار کی ہوگی، عمران خان کل اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں۔

چیف جسٹس عمر عطابندیال کا کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس سیکیورٹی کا کوئی انتظام نہیں ہے، 23 کروڑ لوگ انتظار کر رہے کہ ہمارا لیڈر اس کشتی کو آگے چلائے، آپ اس کشتی کو آگے نکالنے میں مدد کریں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آئین کے تحت عوام کی خدمت کرنے والا امین ہوتا ہے، آپ کے مخالفین بھلے ٹھیک نہ لگیں لیکن وہ بھی حقیقت ہے، توقع دوسرا فریق بھی اپنا کردار ادا کرے گا۔

چیف جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ آپ قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، مجھے دھمکی دی گئی کہ آپ اپنے پر حملے کا انتظار کریں۔

Share This Article
Leave a Comment