مائیکر بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے ایک انجینئر فورڈ ڈیبری نے دعویٰ کیا ہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے فون کے مائیکرو فون کو استعمال کرکے پس منظر کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔
ٹوئٹر انجینئر نے ایک ٹوئٹ میں واٹس ایپ کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ میسجنگ ایپ میری نیند کے دوران مائیکرو فون استعمال کر رہی تھی۔
اس ٹوئٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹر کے سی ای اوایلون مسک نے کہا کہ واٹس ایپ پر بالکل بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب واٹس ایپ کی جانب سے ٹوئٹر انجینئر کی ٹوئٹ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر اینڈرائیڈ فون میں بگ (bug) کی وجہ سے ہوا ہوگا اور معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔
واٹس ایپ نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں سے ہم ایک ٹوئٹر انجینئر سے رابطے میں ہیں جس نے اپنے اسمارٹ فون میں واٹس ایپ پر ایک مسئلے کو پوسٹ کیا تھا، ہمارا ماننا ہے کہ یہ اینڈرائیڈ بگ ہے اور ہم نے گوگل سے معاملے کی جانچ پڑتال کا کہا ہے۔
واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ صارف کو واٹس ایپ میں مائیکرو فون پر مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے اور پلیٹ فارم کو مائیکرو فون تک رسائی اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب صارف کی جانب سے کال، وائس نوٹ یا ویڈیو کے لیے اجازت دی جائے، ان سب کمیونیکیشنز کو اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کا تحفظ حاصل ہے، تو واٹس ایپ انہیں سن نہیں سکتا۔