انڈیا کی ریاست منی پور میں نسلی فسادات کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
اس ریاست میں تشدد کی لہر کا آغاز اس وقت ہوا جب مقامی کمیونٹی نے ریاست کے ایک اہم نسلی گروہ کو قبائلی سٹیٹس دیے جانے کے منصوبے کے خلاف مظاہرے کیے۔
تاہم اس احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار کیا جس کے دوران ہجوم نے مکانات، گاڑیوں، چرچوں اور مندروں پر حملہ کر دیا۔ چند رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 54 تک ہے۔
ان پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے اب تک 10 ہزار لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ ریاست میں امن قائم کرنے کے لیے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جا چکے ہیں اور متعدد اضلاع میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔
ان اضلاع میں انٹرنیٹ کی فراہمی بھی معطل کی جا چکی ہے۔
انڈیا کے شمال مشرق میں میانمار کی سرحد کے قریب واقع منی پور سے ملحقہ ریاستوں کی حکومتوں نے اپنے اپنے طلبا کو نکالنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
انڈیا کی فوج کا کہنا ہے کہ حالات قابو میں لائے جا رہے ہیں تاہم منی پور میں برسراقتدار ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر تشدد کو روکنے کے لیے ناکافی اقدامات کرنے کا الزام لگ رہا ہے۔
واضح رہے کہ منی پور ریاست کی میٹی کمیونٹی، جو یہاں کی کل آبادی کا تقریبا 50 فیصد ہے، کئی برسوں سے شیڈولڈ ٹرائب کیٹیگری میں شمولیت کا مطالبہ کر رہی تھی۔