اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس نے آزادئ صحافت کا اپنا سب سے بڑا انعام جیل میں قید تین ایرانی خواتین کو سچائی اور احتساب کے لیے ان کے عزم پر دیا ہے۔
یہ ایوارڈ جیتنے والوں میں نیلوفر حمیدی بھی شامل ہیں جنہوں نے اخلاقیات کے نفاذ سے متعلق پولیس کی حراست میں 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کی خبر افشا کی تھی۔
مہسا امینی کو ستمبر 2022 میں یہ کہتے ہوئے گرفتار کیاگیا تھا کہ انہوں نے سکارف کے ساتھ اپنے سر کو درست طریقے سے ڈھانپ نہیں رکھا۔
جب کہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی دوسری خاتون الہہ محمدی ہیں جنہوں نے مہسا امینی کی تدفین کی رپورٹنگ کی تھی۔
مہساامینی کی ہلاکت کے نتیجے میں ایران کے درجنوں شہروں میں کئی مہینوں تک مظاہرے ہوئے۔ 2009 میں ایران میں اسلامی انقلاب کے لیے ہونے والے مظاہروں کے بعد جس میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے، یہ سب سے بڑے مظاہرے تھے جنہوں نے اسلامی حکومت کے لیے سنگین نوعیت کے چیلنجز پیدا کر دیے تھے۔
اقوام متحدہ کا آزادئ صحافت کا انعام جیتنے والی تیسری خاتون نرگس محمدی ہیں، جنہوں نے کئی برسوں تک صحافی کے طور پر کام کیا ہے اور ان کا شمار ایران کے ممتاز سرگرم کارکنوں میں کیا جاتا ہے۔
صحافت کے لیے یو این ایجوکیشنل سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن ورلڈ پریس فریڈیم پرائز، کولمبیا کے ایک صحافی گئیرمو کنو کے نام پر ہے جنہیں 17 دسمبر 1986 کو بوگوٹا میں ان کے اخبار ’’ ایل ایسپکٹاڈور ‘‘ کے دفتر کے سامنے قتل کر دیا گیا تھا۔ آزادی صحافت کا عالمی دن 1997 سے ہر سال 3 مئی کو منایا جاتاہے۔
یونیسکو کے ڈائریکڑ جنرل آڈرے ازولے نے انعام جیتنے والوں کے ناموں کا اعلان نیویارک کی ایک تقریب میں یہ کہتے ہوئے کیا کہ’’اب پہلے سے کہیں زیادہ ان تمام خواتین صحافیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے جنہیں اپنا کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور انہیں اپنی ذات کے تحفظ کے حوالے سے دھمکیوں اور حملوں کا سامنا ہے۔