شامی جنگجوﺅں نے لیبیا میں لڑنے سے انکارکردیا، ترکی مشکلات کا شکار

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والے دارے ‘سیرین آبزر ویٹری فارہیومن رائٹس’ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی جنگجو گروپوں نے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی حمایت میں لڑنے سے انکار کردیا ہے۔شامی عسکریت پسند گروپوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مزید جنگجو لیبیا نہیں بھیجیں گے۔

انسانی حقوق گروپ نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حمص گورنری کے مشرقی الغوطہ میں سرگرم ‘فیلق الرحمان’ نامی گروپ جو اب بھی شام کی نیشنل آرمی کی سرپرستی اور ترکی کی وفاداری میں لڑ رہا ہے نے اپنے مزید جنگجو لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے دفاع میں لڑائی کے لیے بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سیرین نیشنل آرمی کی طرف سے فیلق الرحمان کے جنگجوﺅں کو دو ماہ سے نہ تو تنخواہیں دی گئی ہیں اور نہ ہی انہیں خوراک اور اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا میں شامی جنگجوﺅں کی آمد کا سلسلہ گذشتہ برس اکتوبر میں اس وقت شروع ہوا جب لیبیا کی نیشنل آرمی نے طرابلس میں قومی وفاق حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے چڑھائی کی۔ اس پر قومی وفاق حکومت کی حامی ترک حکومت نے شام سے 5 ہزار جنگجوﺅں کو تربیت فراہم کرنے بعد انہیں لیبیا میں جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں لڑنے سرگرم فوج کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجا تھا۔

سیرین آبزر ویٹری برائے انسانی حقوق نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ انقرہ غیر شامی انتہا پسند جنگجوﺅں کو بھی لڑائی کے لیے لیبیا بھیجتا رہا ہے۔ انسانی حقوق گروپ کو شام میں ‘داعش’ اور دوسرے انتہا پسند گروپوں کے ہمراہ لڑنے والے 37 جنگجوﺅں کی فہرست ملی ہے جو اس وقت ترکی نے طرابلس میں تعینات کیے ہیں۔

گذشتہ دو ہفتوں سءترکی نے لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی حمایت میں اپنی مداخلت کا سلسلہ مزید بڑھا دیا ہے۔ دوسری طرف لیبیا کی نیشنل آرمی کا کہنا ہےکہ اس نے ترھونہ شہر اور طیہ فضایہ اڈے پر قومی وفاق حکومت کے ٹھکانوں اور اسلحہ کے ذخائر کو نشانہ بنا کرانہیں تباہ کیا ہے۔

جبکہ ترکی کے ایک کثیر الاشاعت اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوآن کو لیبیا میں قومی وفاق حکومت کے دفاع کے لیے مزید جنگجو بھرتی کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ترک اخبار ‘احوال’ میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انقرہ حکومت کی طرف سے شام میں جنگجوﺅں کو پیسوں کا لالچ دینے کے ساتھ دیگر مراعات کی پیش کش کی گئی مگر بہت سے جنگجو گروپوں نے لیبیا میں جاری لڑائی میں حصہ لینے سے انکار کردیا ہے۔

اخباری رپورٹ کے مطابق شامی جنگجوﺅں کی طرف سے لیبیا میں لڑائی کے لیے آمادہ ہونے سے انکار پر ترک انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے جنگجوﺅں کو جان سے مارنے کی دھمکمیاں دی جا رہی ہیں۔

خیال رہے کہ لیبیا میں لڑائی میں حصہ لینے والے جنگجوﺅں کو کئی قسم کی مراعات دینے کی پیش کش کی ہے جن میں چھ ماہ یا زیادہ عرصے تک لیبیا میں لڑنے والے جنگجوﺅں کو ترکی کی شہریت دینے کی پیشکش بھی شامل ہے۔

اخبار لکھتا ہے کہ لیبیا میں جنگجوﺅں پر طیب ایردوآن کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔ جنگجو یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ترک صدر سیاسی مقاصد اور جیو۔ پولیٹیکل مقاصد کے لیے انہیں ایندھن بنا رہے ہیں۔ ترک صدر کی آمرانہ روش اور لیبیا میں قومی وفاق حکومت کی اندھی حمایت تنازع کو مزید بھڑکا رہی ہے۔

لیبیا کی نیشنل آرمی نے حالیہ عرصے کے دوران ترکی کی طرف سے طرابلس میں لڑائی کے لیے بھیجے متعدد جنگجوﺅں کو حراست میں لیا ہے۔ ان کی گرفتاریاں بو سلیم اور دارالحکومت طرابلس کی جنوبی پہاڑیوں سے عمل میں لائی گئیں۔

گرفتار کیے گئے اجرتی قاتلوں نے بتایا کہ انہیں ترکی کی طرف سے لیبیا میں لڑنے کے لیے ماہانہ 2000 ڈالر دینے کاوعدہ کیا ہے۔ گرفتار جنگجوﺅں نے بتایا کہ لیبیا بھیجنے سے قبل ان سے دو ہزار ڈالر ماہانہ دینے کی بات کی گئی تھی مگر یہ فراڈ تھا۔ انہیں اتنی رقم نہیں دی جا رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment