جب مظلوم اور محکوم کیلئے انصاف کے تمام دروازے بند کیے جاتے ہیں، جب ان کی فریاد سننے کیلئے کوئی تیار نہیں ہوتا ہے، جب ہر سو تاریکیاں چھا جاتی ہں ۔۔۔ تب کوئی نور مجسم امید کی کرن بن کر فرض بشر کو حیات بخشتی ہے۔۔۔ اور وہ تاریخ میں "سبین” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ سبین جس نے لوگوں کو کہا کہ ڈر تو آپ کے دماغ میں ایک فتور سے زیادہ کچھ نہیں اب یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ لکیر کے کس طرف کھڑے ہیں۔ اس نے تب سچ کا ساتھ دیا جب بڑے بڑے نامور شخصیات، بڑے تعلیمی ادارے، ذرائع ابلاغ کے معتبر ادارے ساتھ چھوڑ رہے تھے اپنے دروازے بند کر رہے تھے ۔
سبین محمود نے Silencing Balochistan کے نعرے کو UnSilencing Balochistan میں بدل دیا۔ جب ریاستی مقتدرہ طاقتور اداروں نے لاہور کے لمز یونیورسٹی میں بلوچستان کے جبری لاپتہ افراد کیلئے منعقدہ سیمینار میں مداخلت کرکے ماما قدیر بلوچ اور فرزانہ بلوچ کو شرکت کرنے سے روک دیا تب، اسی بہادر لڑکی نے اپنے چھوٹے سے بک ریڈنگ سینٹر ( The second Floor) میں بلوچ لاپتہ افراد کیلئے سیمینار منعقد کیا، انہوں نے اس ڈر کو مات دیا جو لوگوں نے اپنے دلوں میں بسایا تھا ۔
بلوچ قوم اپنے اس عظیم محسنہ کی قربانی کو کبھی نہیں بھول سکتی۔ جس طرح بلوچو ںمیں ایک قول مشہور ہے کہ "تاسے آپ سد سال ءِ وفا” یعنی ایک کٹورہ پانی کی قیمت سو سال کی وفا ہے ۔ بلکہ سبین نے بلوچوں کے لیے لہو کا نذرانہ پیش کیا لہذا وہ تو ہمیشہ کیلئے امر ہے ۔
ریاست نے 24 اپریل 2015، سبین محمود ہم سے جسمانی حوالے سے جدا کیا لیکن وہ آج تک ہمارے دلوں میں زندہ ہے، امر ہے، نمیران ہے۔ سبین کی تصویر کو آج بھی ہم نے بلوچستان میں راہِ حق کے شہداء کے ساتھ آویزاں کیا ہوا ہے کہ سبین حق کی آواز بلند کرنے والی پیامبر ہے۔
سبین ہمیں معاف کرنا، ہم آپ کیلئے کچھ نہیں کر سکے، آپ کو ٹھیک طرح سے یاد بھی نہیں کر سکے، ہم وہ مظلوم اور بے بس قوم ہیں جو اپنی بیٹی ماھل بلوچ کو ظالموں سے چھڑا نہ سکے، لیکن ہم بھولے نہیں ہیں، آپ کی سوزوکی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پہ پڑی خون سے لت پت لاش اور بکھرے چپل آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں، آپ کی سوچ، آپ کا کردار کس قدر بلند ہے، اسے الفاظ میں پیوستہ کرنا ممکن نہیں۔۔۔المختصر یہ کہ آپ نے وہ کارہائے نمایاں کردکھایا ہے جس کے بارے میںعام انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ آپ کا یہی کردار تھا اسی لیے تو ان نادیدہ قوتوں کی آنکھوں میں آپ ہمہ وقت کٹک رہے تھے وہ حق کے پیامبروں کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے ۔
سبین امر ہے،” میرا ہے وہ حوصلہ، جس سے پہاڑ لرزاں ہوںسبین نام ہے میرا، میں ڈر نہیں سکتی ،میرے پیام سے لاکھوں شعور زندہ ہیںہزار قتل کرو پھر بھی مر نہیں سکتی "۔
***