فرد سے ادارے تک | دلجان بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
15 Min Read

سیاست میں سب سے مشکل کام لوگوں کو جمع کرنا نہیں، ایک ایسا ادارہ تعمیر کرنا ہے جو لوگوں کے آنے جانے سے قائم رہے۔ ہجوم چند لمحوں میں جمع ہوجاتا ہے، شخصیت چند برسوں میں مقبول ہوجاتی ہے، مگر ادارہ وقت مانگتا ہے۔ اسے بنانے کے لیے صرف جوش نہیں، شعور چاہیے، صرف قربانی نہیں، نظم چاہیے، صرف قیادت نہیں، اصول چاہیے۔

فرد کی طاقت اس کے اپنے وجود تک محدود ہوتی ہے۔ ادارے کی طاقت اس وجود سے آگے نکل جاتی ہے۔

ایک فرد بولتا ہے تو اس کی آواز ہوتی ہے، ایک ادارہ بولتا ہے تو اس کے پیچھے ایک تاریخ، ایک طریقۂ کار اور ایک اجتماعی حافظہ ہوتا ہے۔ فرد مر سکتا ہے، تھک سکتا ہے، بدل سکتا ہے، غلطی کرسکتا ہے، خاموش ہوسکتا ہے یا راستہ چھوڑ سکتا ہے، مگر ایک زندہ ادارہ اپنی ذمہ داری کسی ایک شخص کی سانس کے ساتھ دفن نہیں ہونے دیتا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست جذبات سے نکل کر شعور میں داخل ہوتی ہے۔سیاسی جدوجہد کا ابتدائی مرحلہ اکثر کسی شخصیت کے گرد جمع ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ لوگ کسی انسان میں اپنی امید دیکھتے ہیں، اس کے کردار میں اپنی خواہشوں کا عکس پاتے ہیں اور اس کی آواز میں اپنی خاموشی کی ترجمانی محسوس کرتے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہے۔ مگر سیاست کا سفر اگر اسی مقام پر رک جائے تو اجتماعی قوت ایک فرد کے قد سے بڑی نہیں ہوپاتی۔

پختہ سیاست وہ ہے جہاں انسان آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ جس خواب کے لیے ہم جمع ہوئے ہیں، وہ کسی ایک انسان کی ملکیت نہیں۔ خواب اگر اجتماعی ہے تو اس کی حفاظت بھی اجتماعی ہونی چاہیے۔

یہیں سے ادارہ پیدا ہوتا ہے۔ادارہ دراصل انسانوں کے درمیان اعتماد کا وہ منظم معاہدہ ہے جس میں ذمہ داریاں افراد سے زیادہ اصولوں کی پابند ہوتی ہیں۔ ادارہ یہ نہیں دیکھتا کہ کون موجود ہے، وہ یہ طے کرتا ہے کہ موجود شخص کو کیا کرنا ہے۔ وہ کسی فرد کے ارادے پر نہیں، ایک متعین طریقۂ کار پر کھڑا ہوتا ہے۔اسی لیے مضبوط ادارے میں شخصیت اہم ہوسکتی ہے، مگر فیصلہ کن نہیں۔

یہ فرق معمولی دکھائی دیتا ہے، مگر سیاسی زندگی میں یہی فرق پختگی اور ناپختگی کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔اگر ایک تنظیم اپنے تمام فیصلے ایک شخص کی بصیرت سے وابستہ کردے تو بظاہر وہ بہت منظم معلوم ہوسکتی ہے، لیکن اندر سے کمزور ہوتی جاتی ہے۔ اس کے کارکن سوچنے کے بجائے انتظار کرنا سیکھتے ہیں۔ سوال کرنے کے بجائے اشارہ تلاش کرتے ہیں۔ ذمہ داری اٹھانے کے بجائے حکم کے منتظر رہتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ کارکن سیاسی انسان سے انتظامی انسان بن جاتا ہے۔

اس کے برعکس ادارہ انسان کو تابع نہیں بناتا، اسے ذمہ دار بناتا ہے۔
ادارہ اسے سکھاتا ہے کہ تمہاری رائے کی قدر ہے، مگر رائے اصول سے بڑی نہیں۔ تمہاری قابلیت ضروری ہے، مگر قابلیت دستور سے بالاتر نہیں۔ تمہاری قربانی قابلِ احترام ہے، مگر قربانی تمہیں قانون سے مستثنیٰ نہیں کرتی۔

یہی سیاسی اخلاقیات کی بنیاد ہے۔
ایک صحت مند سیاسی ادارے میں اختلاف خطرہ نہیں ہوتا بلکہ زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جہاں اختلاف کے لیے جگہ نہ ہو وہاں بظاہر خاموشی ہوتی ہے، مگر اندر سے جمود پیدا ہوچکا ہوتا ہے۔ ادارہ اختلاف کو انتشار بننے سے روکتا ہے اور اختلاف کو فیصلہ سازی کا حصہ بناتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی سمت میں چلے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف آراء ایک ایسے نظام کے اندر موجود ہوں جہاں بحث کا راستہ بھی معلوم ہو، فیصلہ کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہو اور فیصلے کے بعد اجتماعی ذمہ داری بھی واضح ہو۔یہی نظم ہے۔
نظم کا مطلب خاموشی نہیں، نظم کا مطلب یہ ہے کہ ہر آواز اپنی جگہ پہچانتی ہو۔

سیاسی ادارہ دراصل اجتماعی حافظہ بھی ہوتا ہے۔ افراد اپنے تجربات ساتھ لے کر آتے ہیں اور اپنے ساتھ بہت کچھ لے جاتے ہیں، مگر ادارہ اگر مضبوط ہو تو تجربہ محفوظ رہتا ہے۔ ایک نسل جو کچھ سیکھتی ہے، اگلی نسل وہاں سے سفر شروع کرسکتی ہے جہاں پہلی نسل پہنچی تھی۔ورنہ ہر نسل کو ایک ہی پہاڑ دوبارہ چڑھنا پڑتا ہے۔

ادارے کی اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ تجربے کو شخصیات سے نکال کر اجتماعی علم میں تبدیل کردے۔

بلوچ قومی تحریک کے سفر میں مجھے ایک ایسا نام نہیں بلکہ ایک ایسا کردار دکھائی دیتا ہے جس نے اپنی سیاسی زندگی کو اسی اصول کے لیے وقف کیے رکھا، ادارہ فرد سے بڑا ہے۔

وہ کردار استاد واحد کمبر کا ہے۔استاد واحد کمبر کی سیاسی زندگی کو اگر صرف ان کی قربانیوں، گرفتاریوں یا مشکلات کی فہرست میں رکھا جائے تو شاید ان کے فکری کردار کے ساتھ انصاف نہ ہو۔ ان کی اصل اہمیت اس بات میں ہے کہ انہوں نے سیاست کو اپنی ذات کے گرد جمع کرنے کے بجائے اداروں کے گرد منظم کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے نام کو منزل نہیں بنایا۔
شناخت کو مقصد نہیں بنایا۔
اپنے گرد عقیدت مندوں کا حلقہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔
ان کی توجہ اس بات پر رہی کہ ادارہ قائم ہو، ادارہ سیکھے، ادارہ بڑھے اور ادارہ فرد کے بغیر بھی اپنا سفر جاری رکھ سکے۔

مجھے یاد ہے، وہ بار بار یہی بات کہتے تھے:
”اداروں کو مضبوط بناؤ، فرد اور شخصیت کے پیچھے مت بھاگو۔ ادارہ ہوگا تو شخصیت کی گنجائش نہیں رہتی۔”

یہ محض ایک سیاسی جملہ نہیں تھا، یہ ایک پورا سیاسی فلسفہ تھا۔
وہ جانتے تھے کہ شخصیت کے گرد جمع ہونے والی سیاست ابتدا میں آسان معلوم ہوتی ہے۔ ایک چہرہ سامنے ہوتا ہے، ایک آواز ہوتی ہے، فیصلے کا ایک مرکز ہوتا ہے اور لوگوں کے لیے سوچنے کی ذمہ داری بھی آسان ہوجاتی ہے۔ مگر اسی آسانی کے اندر ایک خطرناک کمزوری چھپی ہوتی ہے۔شخصیت آہستہ آہستہ مرکز بنتی ہے۔
مرکز اختیار بنتا ہے۔
اختیار تقدس پیدا کرتا ہے۔
اور تقدس کے بعد سوال کم ہوجاتے ہیں۔

جہاں سوال کم ہوتے ہیں وہاں شعور بھی آہستہ آہستہ سکڑنے لگتا ہے۔
اسی لیے استاد واحد کمبر شخصیت پرستی سے ہمیشہ محتاط رہنے کی تلقین کرتے رہے۔ ان کی نظر میں سیاسی جدوجہد کسی پیر کے گرد مریدوں کا حلقہ نہیں، بلکہ باشعور انسانوں کی ایک منظم اجتماعی قوت ہونی چاہیے۔

وہ اکثر اس خطرے کی طرف متوجہ کرتے تھے کہ جب لوگ ادارے کے بجائے شخصیت کے پیچھے چلنا شروع کردیں تو تحریک کی طاقت ایک وسیع میدان میں پھیلنے کے بجائے ایک دائرے میں سمٹ جاتی ہے۔ پھر بہت سے لوگ ایک مرکز کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور اصل تنظیم، اصل مقصد اور اجتماعی قوت آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتی ہے۔

یہی شخصیت پرستی کا سب سے بڑا نقصان ہے۔وہ انسان کو بڑا دکھائی دیتی ہے، مگر ادارے کو چھوٹا کردیتی ہے۔اور جب ادارہ چھوٹا ہوجائے تو تحریک کا مستقبل بھی محدود ہوجاتا ہے۔

استاد واحد کمبر کی خاص بات شاید یہی تھی کہ انہوں نے اپنے لیے وہ جگہ کبھی نہیں مانگی جو سیاست میں لوگ اکثر اپنی جدوجہد کے بدلے چاہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے نام کے گرد تاریخ لکھنے کے بجائے ایسے ادارے بنانے کی کوشش کی جن میں آنے والی نسلیں اپنی تاریخ لکھ سکیں۔

یہ ایک خاموش قسم کی سیاسی قربانی ہے۔اس قربانی میں تالیاں کم ہوتی ہیں، نام کم آتا ہے، تصویریں کم بنتی ہیں، مگر بنیاد زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

عمارت کی بنیاد ہمیشہ نظر نہیں آتی، مگر پوری عمارت اسی پر کھڑی ہوتی ہے۔

استاد واحد کمبر آج پاکستان کی جیلوں میں قید ہیں، مگر قید کسی فکر کو قید نہیں کرسکتی۔ جسم کو دیواریں گھیر سکتی ہیں، خیال کو نہیں۔ ایک انسان کو ایک جگہ محدود کیا جاسکتا ہے، مگر اس کے اصول کو ان لوگوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا جنہوں نے اسے سمجھ لیا ہو۔

ان کا اصل تسلسل کسی دفتر، کسی عہدے یا کسی کرسی میں نہیں، ان لوگوں کے شعور میں ہے جو یہ سمجھ چکے ہیں کہ قومی جدوجہد کسی فرد کی ملکیت نہیں ہوتی۔

یہاں استاد واحد کمبر کا فلسفہ ہمارے لیے ایک سوال بھی چھوڑتا ہے:ہم جو ادارے بنا رہے ہیں، کیا وہ ہمارے بغیر بھی چل سکتے ہیں؟
اگر جواب نہیں ہے تو ہمیں اپنی کامیابی پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
اگر کسی تنظیم کا ہر فیصلہ ایک شخص کا محتاج ہے، اگر اس کے اندر نئے لوگوں کی تربیت نہیں ہورہی، اگر تجربہ چند افراد کے ذہنوں میں بند ہے، اگر ذمہ داریاں مستقل طور پر چند ہاتھوں میں سمٹی ہوئی ہیں، اگر اختلاف کو ادارہ سنبھال نہیں سکتا، تو وہاں شاید تنظیمی سرگرمی موجود ہو، مگر ادارہ ابھی مضبوط نہیں ہوا۔

استاد واحد کمبر کی فکر ہمیں اسی مقام پر واپس لاتی ہے۔ادارہ بناؤ۔
ایسا ادارہ جو کسی ایک شخص کی ملکیت نہ ہو۔ایسا ادارہ جس میں آنے والا کارکن خود کو کسی شخصیت کا مرید نہیں بلکہ ایک مقصد کا ذمہ دار سمجھے۔
ایسا ادارہ جہاں قیادت کا مطلب بالادستی نہیں، ذمہ داری ہو۔
ایسا ادارہ جہاں عہدہ اختیار کا دروازہ نہیں بلکہ جواب دہی کا مقام ہو۔

ایسا ادارہ جہاں ایک کارکن کی تربیت اس لیے نہ کی جائے کہ وہ کسی فرد کا وفادار بنے، بلکہ اس لیے کی جائے کہ وہ مشکل وقت میں اصول کو سمجھ کر درست فیصلہ کرسکے۔

یہی ادارہ سازی ہے۔اور یہی سیاسی تربیت کا اگلا مرحلہ ہونا چاہیے۔
ہمیں ایسے کارکن نہیں چاہییں جو صرف یہ جانتے ہوں کہ کس کی بات ماننی ہے، ہمیں ایسے کارکن چاہییں جو یہ بھی جانتے ہوں کہ کیوں ماننی ہے، کب سوال کرنا ہے، کس اصول کے تحت فیصلہ کرنا ہے اور اجتماعی فیصلے کی ذمہ داری کیسے اٹھانی ہے۔

ایک ادارہ تب مضبوط ہوتا ہے جب اس میں موجود لوگ اس سے زیادہ مضبوط ہوں کہ وہ کسی فرد کے بغیر بھی مقصد کو سمجھ سکیں۔
اور ایک تحریک تب بالغ ہوتی ہے جب اس کا کارکن کسی شخصیت کے چہرے سے زیادہ اپنے مقصد کو پہچانتا ہو۔یہی وہ مقام ہے جہاں سیاست عقیدت سے نکل کر شعور بن جاتی ہے۔

استاد واحد کمبر کی زندگی سے ہمارے لیے شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ سیاست میں سب سے بڑی میراث اپنا نام نہیں، اپنے بعد ایک مضبوط ادارہ چھوڑنا ہے۔

نام وقت کے ساتھ دھندلا سکتا ہے۔
تصویر پر گرد بیٹھ سکتی ہے۔
یادداشت کمزور ہوسکتی ہے۔
مگر ایک مضبوط ادارہ نئی نسل کے ہاتھ میں پہنچ کر دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے۔

اسی لیے سیاسی کارکن کو اپنی زندگی میں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ میں نے کیا حاصل کیا؟
اسے یہ بھی پوچھنا چاہیے۔
میں نے اپنے بعد کیا چھوڑا؟
کتنے انسانوں کو تیار کیا؟
کتنا علم محفوظ کیا؟
کتنا تجربہ منتقل کیا؟
کتنے ادارے مضبوط کیے؟
اور کیا میرے نہ ہونے سے بھی وہ کام جاری رہ سکے گا جس کے لیے میں نے اپنی زندگی صرف کی؟
اگر جواب ہاں ہے تو شاید انسان واقعی اپنے مقصد کے قریب پہنچا ہے۔

کیونکہ سیاست میں سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کو یاد رکھیں۔سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ آپ کے جانے کے بعد بھی مقصد زندہ رہے۔

استاد واحد کمبر کا فکر ہمیں اسی طرف دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
فرد ایک دن تاریخ بن جاتا ہے۔
ادارہ تاریخ کو آگے لے جاتا ہے۔
اور جو لوگ واقعی تاریخ بدلنا چاہتے ہیں، انہیں اپنے نام کے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے ادارے تعمیر کرنے پڑتے ہیں۔فرد کچھ نہیں ہوتا، ادارہ سب کچھ ہوتا ہے۔

مگر اس جملے کا اصل مفہوم یہ نہیں کہ فرد کی کوئی قدر نہیں۔
اصل مفہوم یہ ہے کہ فرد اپنی سب سے بڑی قدر اسی وقت پیدا کرتا ہے جب وہ اپنی ذات سے آگے بڑھ کر ایک ایسے ادارے کی تعمیر کرے جو اس کے بعد بھی انسانوں کو جوڑتا، سکھاتا، سنبھالتا اور مقصد کی طرف لے جاتا رہے۔

شاید یہی کسی سیاسی انسان کی سب سے خاموش، سب سے مشکل اور سب سے بڑی فتح ہے۔

٭٭٭

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article