بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (بی ایس او) آزاد نے سنگر میڈیا گروپ کے بانی، چیف ایڈیٹر اور معروف سیاسی و فکری کارکن شوکت بلیدی کی پہلی برسی کے موقع پر انہیں زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے بلوچ صحافیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ان کے نقشِ قدم پر چل کر قومی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
بی ایس او آزاد کی جانب سے جاری کردہ فکری و خراجِ تحسین بیان کے مطابق شوکت بلیدی 8 اگست 1976ء کو مِہناز (بلیدہ)، کیچ کے ایک تاریخی اور گمنام گاؤں میں محمد عثمان اور خیر بی بی کے گھر پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے سے حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے کراچی منتقل ہوئے اور وہاں سے میٹرک مکمل کیا۔ مالی مشکلات کی وجہ سے وہ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور روزگار کی تلاش میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) چلے گئے، جہاں انہوں نے پہلے بینک میں ملازمت کی اور بعد ازاں اپنا ذاتی کاروبار شروع کیا۔ یو اے ای میں قیام کے دوران ان کا بلوچ سیاسی و فکری کارکنوں سے رابطہ ہوا اور یوں وہ بلوچ قومی تحریک سے عملی طور پر وابستہ ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں جب بلوچستان کا سیاسی منظر نامہ بدلا اور طالبعلم و عوامی سیاست نے واضح نظریاتی رخ اختیار کیا، تو شوکت بلیدی بھی اس فکری انقلاب سے الگ نہ رہ سکے۔ اپنے بہنوئی، الطاف بلوچ، کی شہادت کے بعد وہ وطن واپس لوٹ آئے اور عوامی سیاست میں متحرک ہو گئے۔ الطاف بلوچ کو کیچ میں نواب اکبر خان بگٹی کی برسی کے موقع پر بلوچ نیشنل فرنٹ (بی این ایف) کے ایک عوامی جلسے کے دوران نشانہ بنایا گیا تھا۔
وطن واپسی کے بعد شوکت بلیدی نے "بلوچ نیشنل موومنٹ” (بی این ایم) کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ بی این ایم کیچ ریجن کے صدر منتخب ہوئے اور 2010ء و 2014ء کے مرکزی کونسل سیشنز میں مسلسل دو بار پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ انہوں نے علاقائی اور قومی سطح پر پارٹی کو منظم کرنے اور تحریک کو فکری جلا بخشنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
صحافت اور ادبی میدان میں ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے بتایا کہ شوکت بلیدی نے خاموشی اور گمنامی کے ساتھ فکری و میڈیا محاذ کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے "سنگر پبلی کیشن” کا قیام عمل میں لایا، جس کے تحت ماہنامہ "سنگر میگزین”، "ریڈیو سنگر” (ڈیجیٹل انداز میں) اور "ڈیلی سنگر” (آن لائن اخبار) کا آغاز کیا تاکہ مظلوم بلوچ قوم کی ان سنی داستانوں کو دنیا کے سامنے لایا جا سکے۔
ریاستی جبر کے باعث وہ جلاوطنی پر مجبور ہوئے، لیکن جلاوطنی، بیماری اور دشمن کی جانب سے قتل کی کوششوں (بشمول 2024ء کے قاتلانہ حملوں میں زخمی ہونے) کے باوجود وہ اپنے قومی فرض سے پیچھے نہیں ہٹے۔ بالآخر، زہر خوانی کے شبہات اور طویل علالت کے بعد 5 اکتوبر 2025ء کو دیارِ غیر کے ایک ہسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔
بی ایس او آزاد نے اپنے بیان کے اختتام میں کہا کہ شوکت بلیدی جیسے خاموش، گمنام اور پرخلوص انقلابی کردار بلوچ قوم کے حقیقی ہیرو ہیں جنہوں نے آخری سانس تک قومی مقصد کے لیے کام کیا۔ تنظیم نے تمام بلوچ صحافیوں اور قلمکاروں پر زور دیا ہے کہ وہ سچائی، فکر اور قومی آگاہی کا یہ مشعل راہ سنبھال کر شوکت بلیدی کے مشن کو آگے بڑھائیں۔