شہید زبیر بلوچ | نہار بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

کوئی تو سود چکائے کوئی تو ذمہ لے
اس انقلاب کا جو اج تک ادھار سا ہے

زبیر شہید کو ہم بہت جلدی بھول گئے ہیں۔
وہ جو ہمارے درمیان اپنی زندگی کے سب سے سنہرے دن گزار گیا، جس نے اپنی ہنستی مسکراتی جوانی ہم پر نچھاور کر دی، اپنا سب کچھ ہمیں سونپ کر خود خالی ہاتھ لوٹ گیا۔ اور آج… آج اس کی پہلی برسی ہے، لیکن افسوس کہ ہم میں سے کسی کو نہ زبیر یاد ہے، نہ اس کی قربانیاں۔

اس سے ہم کیا تاثر لیں؟ کیا زبیر شہید ہمارا ساتھی نہیں تھا؟ کیا اس کی شہادت اجتماعی قومی آسودگی اور استحصال کے خلاف نہیں تھی؟ پھر ہم کیوں مصلحت پسندی کے اندھیروں میں گم ہیں؟ کیوں ہماری زبانیں گنگ اور قلم لرز رہے ہیں؟

دوستو! زبیر ہمارا ساتھی تھا، ہمارا اپنا تھا، اور اس کی قربانی ہماری اپنی قربانی ہے۔ اس کا لہو ہمارے عہد کا قرض ہے۔

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے، بہت دن پہلے کی بات ہے، جب زبیر منڈی بہاؤالدین سے فارغ التحصیل ہو کر اپنے بڑے بھائی کے دانتوں کے کلینک میں اس کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ میں اس سے ملا، اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے یونیورسٹی کے لان تک لے آیا۔ وہ ایسے دن تھے جب میں تنہا تھا، اور مجھے زبیر جیسے سچے، کھرے اور نظریاتی ساتھیوں کے سہارے کی، ان کی رفاقت کی شدت سے ضرورت تھی۔

اس وقت تنظیم اندرونِ خانہ دو دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی، زخم خوردہ تھی۔ کچھ دوست نادانی میں، انجانے میں تنظیم کو کمزور کرنے کے لیے لابنگ کر رہے تھے۔ ایسے کٹھن وقت میں ہم چند دوستوں نے فیصلہ کیا کہ بی ایس او کو پھر سے ایک حقیقی طلبہ تنظیم، ایک نظریاتی قافلے میں بدلنا ہے۔ اسی جدوجہد میں زبیر ہمارے ساتھ آ ملا۔

جب ہم نے پہلی بار زبیر کو یونیورسٹی کے سبز لان میں، بی ایس او کے اسٹڈی سرکل میں بٹھایا، تو اس کی آنکھوں میں ایک نئی دنیا کو جاننے کی پیاس تھی۔ ہم نے اسے پہلی کتاب کے طور پر اینگلز کی شہرہ آفاق کتاب "خاندان، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز” پڑھنے کو دی۔ وہ کتاب جو ایک ہفتے تک ہمارے سرکل کا موضوع بنی رہی، اور زبیر نے اسے ایسے پڑھا جیسے کوئی پیاسا صحرا میں چشمہ پا لے۔

اس کے بعد زبیر کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ وہ اس سرکل کا حصہ بن گیا، ہماری ہر سیاسی اور نظریاتی بحث و مباحثے کی روح بن گیا۔ وہ صرف سنتا نہیں تھا، سمجھتا تھا، سوال کرتا تھا، اور تنظیم کو نظریاتی بنیاد فراہم کرنے کے لیے دن رات ہمارے ساتھ جہدِ مسلسل میں شریک رہا۔

اور پھر وہ وقت بھی آیا جب اسی زبیر کو، اسی کم گو، سنجیدہ ساتھی کو بی ایس او کا چیئرمین منتخب کیا گیا۔ وہ ایسا دور تھا جب بی ایس او بحرانوں سے نکل کر بہت کمزور اور بکھری ہوئی تھی۔ لیکن زبیر شہید نے مایوسی کو امید میں بدلا۔ اس نے تنظیم کو اپنے خونِ جگر سے سینچا، اسے مضبوط اور متحرک کیا۔ بلوچستان بھر کا تنظیمی دورہ کیا، سوئے ہوئے ضمیر جگائے، بکھرے ہوئے دوستوں کو ایک لڑی میں پرویا۔

وہ لاپتہ نوجوانوں کی آواز بنا، وہ غریب اور بے بس محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہا، وہ شہیدوں کے کارواں کا سچا وارث بنا۔ اور پھر ایک دن، خود شہادت کا سرخ جھنڈا تھام کر، ہم سب کو حیران و پریشان چھوڑ کر امر ہو گیا۔ اس نے شعوری طور پر ایک ایسا راستہ چنا تھا جس کی منزل اسے معلوم تھی۔ اسے معلوم تھا کہ اس سفر کا انت شہادت کے سوا کچھ نہیں۔

آج زبیر جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، لیکن اس کی سوچ، اس کا نظریہ، اس کا جہدِ مسلسل کا سفر آج بھی جاری ہے، اور کل بھی جاری رہے گا۔

شہید زبیر بلوچ کی عظیم جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو سرخ سلام!

زبیر! تمہیں بھلایا نہیں جا سکتا، تم ہماری تاریخ کا روشن باب ہو۔

***

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article