تقریباً 20 دن قبل، 31 جولائی 2026ء کو پاکستانی فوج کے ترجمان (ڈی جی آئی ایس پی آر) احمد شریف چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ بلوچستان میں بدامنی اور خراب حالات کے ذمہ دار وہاں کے کرپٹ سردار، وڈیرے، میر اور نواب ہیں، جو بلوچ قوم کو اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم، اس کے برعکس 20 اگست 2026ء کو فوج کی جانب سے راولپنڈی (جی ایچ کیو) میں بلوچستان کے پشتون و بلوچ سرداروں، نوابوں، وڈیروں اور مذہبی رہنماؤں کا ایک بڑا جرگہ بلایا گیا۔ اس اجلاس میں شہید نواب اکبر بگٹی کے پوتوں شادین بگٹی اور گوہر بگٹی سمیت جمالی، مگسی اور رند قائل کے بااثر افراد نے شرکت کی۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ نام نہاد سردار، نواب اور میر ہمیشہ سے ریاست اور فوج کے وفادار رہے ہیں۔ بلوچ قوم اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ بلوچستان کو وفاق کے زیرِ تسلط لانے میں انہی مفاد پرست عناصر کا بنیادی کردار رہا ہے۔
آج مکران سے رخشان تک—جہاں بلوچ معاشرے میں روایتی سرداری نظام کمزور ہے—وہاں بی ایس او (BSO) کے قوم پرستانہ نظریات سے متاثر بی ایل اے (BLA) اور بی ایل ایف (BLF) کے سرمچار ریاستی فورسز کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں اور وہاں فوج کو سخت چیلنج کا سامنا ہے۔
دوسری جانب کوہِ سلیمان کے خطے اور ملحقہ علاقوں، جن میں بولان، مچھ، ڈھاڈر، سبی، بارکھان، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، ڈیرہ مراد جمالی، جھل مگسی، جیکب آباد، کشمور، راجن پور اور ڈیرہ غازی خان شامل ہیں—میں بااثر سردار موجود ہیں جو باقاعدہ طور پر ریاستی بیانیے اور فوج کی حمایت کرتے ہیں۔ انہی کی سرپرستی کی وجہ سے ان علاقوں میں بی ایس او کو منظم ہونے کا موقع نہیں ملا اور مقامی سطح پر آپسی تنازعات و بھتہ خوری کو فروغ ملا۔ ذرائع کے مطابق، جی ایچ کیو میں ہونے والے اس جرگے کے دوران بھی یہ سردار اور نواب ایک دوسرے پر الزامات تراشی کرتے رہے۔
اطلاعات کے مطابق، اس جرگے کے دوران فوجی قیادت کی جانب سے سخت اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کیا گیا۔ حامی سرداروں کو واضح کیا گیا کہ فورسز کے لیے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں ٹی ٹی پی (TTP) اور بی ایل اے کا مقابلہ کرنا اب ممکن نہیں رہا، اس لیے سیکیورٹی اہلکار چیک پوسٹوں اور پہاڑوں سے پیچھے ہٹ کر شہروں اور کینٹونمنٹس تک محدود رہیں گے۔ سرداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ خود اپنے علاقوں میں مسلح گروہوں کا مقابلہ کریں، بصورتِ دیگر سرکاری سرپرستی ختم کر دی جائے گی۔ مزید برآں، یہ شرط بھی رکھی گئی کہ آئندہ بلوچستان میں اقدار اور اہم وزارتیں صرف انہی کو ملیں گی جو میدانِ جنگ میں فورسز کا ساتھ دیں گے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ پہلے ہی نشاندہی کر چکی ہیں کہ یہ سردار بلوچ عوام کے نہیں بلکہ اقتدار کے وفادار ہیں۔ نواب خیر بخش مری اور نواب اکبر بگٹی کے بعد حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کرنے والی قیادت ختم ہو چکی ہے، اور موجودہ مراعات یافتہ طبقہ عوام کا اعتماد کھو چکا ہے۔
بلوچ عوام کو اپنے حقوق اور بہتر مستقبل کے لیے ان ذاتی مفاد پرست سرداروں کے سیاسی اثر و رسوخ کو مسترد کرنا ہوگا۔ بلوچستان کی حقیقی آزادی، ترقی اور خوشحالی کا ضامن ایک باہم متحد اور شعور یافتہ معاشرہ ہے، نہ کہ سرداری نظام۔
اللہ تعالیٰ بلوچ قوم کو متحد اور کامران کرے۔ آمین۔