ڈاکٹر نوکاپ: ایک سیاسی جہد کار کی جدوجہد | شیردل

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

کچھ لوگ اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں جیتے، بلکہ اپنے لوگوں کے دکھ، محرومی اور امیدوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔ ڈاکٹرنوکاپ بھی انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ کولواہ سرڈگار کی سرزمین سے وابستہ یہ نرم مزاج، گہری سوچ رکھنے والے تجزیہ نگار، معالج، معلم اور سیاسی جہد کار اپنی شخصیت میں سیاسی شعور، انسانی ہمدردی اور خدمت کا ایک خوبصورت امتزاج رکھتے تھے۔

ڈاکٹرنوکاپ کے لیے سیاست محض اقتدار کے حصول یا سیاسی مفاد کا نام نہیں تھی۔ وہ سیاست کو اپنے معاشرے کے مسائل کو سمجھنے، محرومیوں کی وجوہات تلاش کرنے اور انسانوں کے لیے ایک بہتر اور باوقار مستقبل کی جدوجہد کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کی گفتگو میں جذبات ضرور ہوتے تھے، مگر ان جذبات کے ساتھ ایک سنجیدہ فکری رویہ بھی موجود تھا۔ وہ حالات کو سطحی طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے پس منظر، اسباب اور اثرات کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔

یہی فکری گہرائی انہیں ایک سنجیدہ سیاسی تجزیہ نگار کے طور پر نمایاں کرتی تھی۔ وہ سوال اٹھاتے تھے، حالات کا مشاہدہ کرتے تھے اور اپنے معاشرے کے مسائل پر سوچنے کی دعوت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک سیاسی شعور صرف نعروں تک محدود نہیں تھا بلکہ حقیقت کو سمجھنے، سوال کرنے اور اپنے لوگوں کے حالات پر غور کرنے کا نام تھا۔

مگر ڈاکٹرنوکاپ کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو شاید ان کی نرم دلی اور انسان دوستی تھی۔ سیاسی اختلافات اور نظریاتی وابستگیوں کے باوجود انسان کے احترام کو وہ بنیادی اہمیت دیتے تھے۔ معاشرے کے کمزور، محروم اور بے آواز طبقات کے دکھ کو محسوس کرنا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ ان کے لیے سیاسی جدوجہد کی اصل معنویت اسی وقت پیدا ہوتی تھی جب اس کا تعلق عام انسان کی زندگی، عزت، سلامتی اور مستقبل سے جڑتا ہو۔

ان کی شخصیت صرف سیاسی میدان تک محدود نہیں تھی۔ ایک معالج کی حیثیت سے انسانوں کی خدمت اور ایک معلم کی حیثیت سے علم و آگہی کے فروغ سے ان کا تعلق ان کے کردار کے اہم پہلو تھے۔ بلوچ نیشنل موومنٹ کے مطابق ڈاکٹر نوکاپ کی قومی، تنظیمی، طبی اور تعلیمی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔ یہی خدمات اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہیں کہ وہ صرف ایک سیاسی کارکن نہیں بلکہ اپنے معاشرے کی خدمت کے مختلف میدانوں میں کردار ادا کرنے والی شخصیت تھے۔

ڈاکٹر نوکاپ کا قتل ان کی زندگی اور جدوجہد کے اختتام کا نام ضرور ہے، مگر ان کے خیالات، خدمات اور یاد کو ختم نہیں کرتا۔ بلوچ نیشنل موومنٹ نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر نوکاپ کا قتل ایک فرد کو خاموش کرنے کے واقعے تک محدود نہیں، بلکہ اسے بلوچ سماج کو اس کے باصلاحیت، خدمت گزار سیاسی کارکنوں، معالجوں، معلموں اور انسان دوست شخصیات سے محروم کرنے کی منظم پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ بی این ایم نے عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور ذمہ دار عالمی قوتوں سے ڈاکٹر نوکاپ کے قتل، سرحد پار بلوچ سیاسی کارکنوں کے تعاقب اور ان کے خلاف جاری کارروائیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
یہ ایک سیاسی تنظیم کا مؤقف ہے، لیکن ڈاکٹر نوکاپ کی زندگی کو یاد کرتے ہوئے ان کے سیاسی کردار کے ساتھ ان کی طبی، تعلیمی اور انسانی خدمات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک انسان کی اصل میراث صرف اس کے سیاسی نعروں میں نہیں ہوتی؛ اس میراث میں وہ زندگیاں بھی شامل ہوتی ہیں جنہیں اس نے چھوا، وہ شاگرد بھی جنہیں اس نے علم دیا، وہ مریض بھی جن کی خدمت کی اور وہ لوگ بھی جنہیں اس کی گفتگو، فکر اور کردار سے حوصلہ ملا۔

کولواہ سرڈگار کی مٹی سے اٹھنے والے ڈاکٹرنوکاپ نے اپنے عہد کے حالات کو سمجھنے اور ان پر اظہارِ خیال کرنے کی کوشش کی۔ ان کی زندگی یہ یاد دلاتی ہے کہ سیاسی کارکن ہونا صرف جلسوں، نعروں اور بیانات تک محدود نہیں۔ ایک حقیقی سیاسی جہد کار اپنے معاشرے کو سمجھتا ہے، سوال اٹھاتا ہے، حقائق کا تجزیہ کرتا ہے، اپنے لوگوں کے دکھ کو محسوس کرتا ہے اور اپنی صلاحیتوں کو اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
ڈاکٹرنوکاپ کو یاد کرنا دراصل ایک ایسے انسان کو یاد کرنا ہے جس کی شخصیت میں سیاست اور خدمت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ ان کی نرم مزاجی، فکری بصیرت، سیاسی شعور، طبی و تعلیمی خدمات اور انسان دوستی ان کی یاد کو ایک وسیع معنویت عطا کرتی ہیں۔

وقت گزر جاتا ہے، چہرے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر کچھ کردار اپنے پیچھے سوال، فکر اور یاد چھوڑ جاتے ہیں۔ ڈاکٹرنوکاپ بھی انہی کرداروں میں سے ایک تھے۔ ان کی زندگی اور جدوجہد کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ان کے سیاسی شعور کے ساتھ ان کی انسان دوستی، خدمت اور اپنے معاشرے کے لیے فکری وابستگی کو بھی یاد رکھا جائے۔

کیونکہ بعض لوگ چلے جاتے ہیں، مگر اپنے لوگوں کے اجتماعی شعور میں ایک سوال، ایک سوچ اور ایک یاد بن کر زندہ رہتے ہیں ڈاکٹر نوکاپ بھی وہی شحصیت کے مالک تھے۔۔

***

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article