لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے تربت، گوادر و پنجگور میں عیدکے روز احتجاج مظاہرے

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

ہر عیدکی طرح اس عید پر بھی پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے تربت، گوادر اورپنجگور میں اپنے پیاروں کی بازیابی کیلئے احتجاج مظاہرے وریلیاں نکالی گئیں۔

ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں لاپتہ افراد کی لواحقین اور بی ایس او کے زیر اہتمام احتجاج کیا گیا۔

احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ، بینرز اور لاپتہ افراد کی تصویریں اٹھا کر شہید فدا چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور تمام جبری لاپتہ افراد کی بحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر مظاہرین نے کہا کہ ہمارے احتجاج کا بنیادی مقصد قومی اور بین الاقوامی سطح پر ریاستی جبر و تشدد اور بلوچ قوم کے ساتھ جابرانہ رویے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے تاکہ مہذب اقوام بلوچستان میں ریاستی جبر پر لب کشائی کرکے یہاں کے لوگوں پر جبر اور ستم کو روکنے میں کردار ادا کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنے پالیسیوں پر نظرثانی کرے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے، بلوچ قوم راستے پر پڑا کوئی پتھر نہیں کہ جسے کسی دیوار میں پیوست کیا جائے اور وہ چپ رہے، بلوچ ازل سے مزاحمتی کردار کا مالک رہا ہے، اگر بات بلوچ کی بقاء کی ہو تو وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

بی ایس او پجار کے سینیئر وائس چیئرمین بوھیر صالح بلوچ، بی ایس او کے سنٹرل کمیٹی کے ممبر کریم شمبے بلوچ، صدر باھوٹ چنگیز بلوچ، تربت سیول سوسائٹی کے کنوینر گلزار دوست بلوچ اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر لاپتہ افراد جلداز جلد باحفاظت واپس بازیاب نہ کئے گئے تو مظاہرے مزید منظم انداز میں پھیلائے جائیں گے اور ان سب کا ذمہ دار ریاست ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ماہل بلوچ پر جھوٹا الزام لگا کر جیل میں اب انکی میڈیا ٹرائل کی جاری ہے اور روزانہ ایک نیا بیانیہ اپنایا جاتا ہے جس سے ثابت ہوتا کہ ریاست جھوٹ بول رہی ہے۔

لاپتہ افراد کے لواحقین نے اس موقع پر اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ مجرم ہیں تو عدالتوں میں پیش کئے جائیں۔

اسی طرح گوادر میں بھی احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔

عید کے روز گوادر میں بھی حق دو تحریک و لاپتہ افراد کے لواحقین کے زیر اہتمام جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرائی گئی۔

گوادر سے لاپتہ عظیم دوست کی ہمشیرہ رخسانہ دوست نے ریلی کی قیادت کی ۔جبکہ ریاست کی جانب سے سخت سیکورٹی میں ریلی کو روکنے کی کوشش کی گئی لیکن ریلی کامیابی سے اختتام پذیر ہوگیا۔

سوشل میڈیا پر جاری رخسانہ دوست کی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ ریلی کو مکمل طور پر فورسز نے گھیرا ہو اہے ۔

گوادر مظاہرے میں فورسز کے ہاتھوں لاپتہ عظیم دوست بلوچ، بولان کریم، نسیم بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت حق دو تحریک کے رہنماؤں و مختلف سیاسی پارٹیوں کے مقامی رہنماؤں کے علاوہ خواتین و بچوں کی بڑی تعداد شریک تھیں۔

مقررین نے کہا کہ ریاست مجرم ہے جو لوگوں کو سالوں سے لاپتہ کرتا ہے اگر یہ لوگ مجرم ہیں تو انکو عدالتوں میں پیش کیا جائے اس طرح لاپتہ کرکے غائب کرنا جرم ہے اور یہ جرم ریاست کی طرف سے ہورہی ہے۔

گوادر مظاہرے میں شرکت کرنے والی لاپتہ عظیم دوست کی بہن رخسانہ دوست نے بتایا میرے بھائی کو جبری لاپتہ کیئے آٹھ سال کا عرصہ ہوگیا ہے، آئے روز ہم سڑکوں پر نکل کر انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں تاہم اتنے احتجاجوں کے باوجود ارباب اختیار و لاپتہ کرنے والوں پر کوئی بھی اثر نہیں پڑ رہا۔

رخسانہ دوست نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہمیشہ رہا ہے کہ بھائی کو بازیاب کیا جائے، ہم بار بار یہی مطالبہ کررہے ہیں کہ اگر وہ مجرم ہیں تو عدالتوں میں پیش کریں اور ان پر جرم ثابت کریں تاہم عدالتیں بھی شہریوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔

گوادر مظاہرین نے حق دو تحریک کے رہنماء مولانا ہدایت الرحمٰن کے بازیابی کا بھی مطالبہ کیا۔

آج مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پولیس و پاکستانی فورسز کی جانب سے مظاہروں میں روکاوٹیں پیدا کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے جہاں گوادر میں پولیس نے مظاہرین کی ریلی کو روکنے کی۔

دریں اثنا ضلع پنجگور میں بھی لاپتہ افراد کی بازیابی اور مولانا ہدالت الرحمان کی رہائی کیلئے حق دو تحریک کی جانب سے ریلی نکالی گئی ۔

پنجگور مظاہرین کا کہنا تھا بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے جس نے بلوچستان میں حالات کو مزید گھمبیر کردیا ہے ریاست بلوچوں کے خلاف اپنا یے رویہ ترک کردے وگرنہ حالات بہتری کے بجائے مزید بگاڑ کی طرف جائینگے اور ان تمام حالات کا ذمہ دار ریاست اور اسکے ادارے ہونگے۔

Share This Article
Leave a Comment