جیونی میں آئی ایس آئی ایجنٹ کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں جیوانی میںپنجاب کے رہائشی کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ شب 2 بجے ہمارے سرمچاروں نے گوادر کے علاقے جیوانی میں کوہ سر بازار کے قریب پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایک کارندے اکبر چودھری کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اکبر چودھری کا تعلق پنجاب کے علاقے سیالکوٹ سے ہے جو 13 سال سے پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کیلئے کام کر رہا تھا۔مذکورہ ایجنٹ مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں گوادر اور جیوانی میں گزشتہ 3 سال سے تاجر کے بھیس میں سرگرم تھا، اس دوران مخبری کے علاوہ وہ پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی میں ہونے والی تقریبات اور پروگراموں کو بلوچ عوام کے درمیان کاروباری طریقوں سے فروغ دیتا تھا۔

آزاد بلوچ نے مزید کہا کہ اس سے قبل وہ آئی ایس آئی کے خفیہ مشن کے تحت ایران کے زیر تسلط بلوچستان میں برائے نام سفارتی تعلقات کی آڑ میں دو سال گزار چکا تھا۔جیوانی میں پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے چند دیگر مخبر و کارندے ہمارے نشانے پر ہیں جو دن دہاڑے کاروبار کے نام پر سادہ لوح لوگوں کو فوجی اسپانسرڈ پروگراموں اور ریلیوں میں شرکت پر مجبور کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم ان تمام آلہ کاروں کو بتانا چاہتے ہیں کہ اکبر چودھری کی ہلاکت سے سبق سیکھیں اور عبرت حاصل کریں۔ جہاں پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے اپنے پیشہ ور اور خاص ایجنٹوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں تو لوکل بلوچ جو مُٹی بھر مراعات کیلئے ان کے ہاتھوں استعمال ہورہے ہیں، ان کی نہ پاکستانی فوج کی نظر میں کوئی وقعت ہے اور نہ ہمارے لئے ان کو ختم کرنا کوئی مشکل کام ہے۔ لہذا تمام لوکل الہ کاروں کو تنبیہ کرتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے اعمال سے باز آجائیں ورنہ ہر ایک کا انجام اکبر چودھری جیسا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آخر میں بی ایل اے پورے بلوچ قوم کو ہدایت کرتی ہے کہ تمام علاقوں میں ایسے ایجنٹوں اور آلہ کاروں کی باتوں میں آکر پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے کسی بھی پروگرام، تقریب یا ریلی میں کسی صورت شرکت نا کریں اور ان سے حد درجہ دوری اختیار کریں۔ہمارے اس طرح کے حملے مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک جاری رہیں گے۔

Share This Article
Leave a Comment