بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں تربت اور سبی حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے سرمچاروں نے تربت اور سبی میں تین مختلف حملوں میں پاکستانی خفیہ اداروں کے آلہ کار، پاکستانی فوج کی چوکی اور ریل گاڑی کو نشانہ بنایا۔ جن میں ایک آلہ کار ہلاک، تین دشمن اہلکار زخمی اور ریل گاڑی سمیت ٹریک کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے آج تربت شہر میں مرکزی جامع مسجد کے قریب فائرنگ کرکے پرویز مسیح ولد برکت مسیح سکنہ اوکاڑہ، پنجاب کو ہلاک کردیا۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ شخص سرکاری ملازم کی روپ میں پاکستانی خفیہ اداروں کیلئے مخبری کا کام کررہا تھا۔ ہم نے اس سے پہلے 9 اپریل کو واضح کیا تھا کہ تربت سمیت دیگر علاقوں میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کے پیرول پر مخبری کرنے والے افراد ہمارے نشانے پر ہونگے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ دوسرے حملے میں بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے تربت، آبسر میں قابض پاکستانی فوج کی ایک چوکی کو نشانہ بنایا۔ مذکورہ چوکی اسی مقام پر قائم کیا گیا جہاں بلوچ نوجوان حیات بلوچ کو دشمن فوج نے شہید کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے دشمن فوج کی چوکی پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے جس کے نتیجے میں کم از کم تین اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ انہیں مالی نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
جیئند بلوچ نے مزیدکہا کہ گذشتہ روز بی ایل اے کے سرمچاروں نے سبی میں مشکاف کے علاقے میں جعفر ایکسپریس ریل گاڑی کو اس وقت آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جب وہ کوئٹہ سے لاہور جارہی تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں ریل کے انجن سمیت ٹریک کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ آزاد وطن کے حصول تک ہمارے حملے قابض فوج و اس کے شراکت داروں پر جاری رہینگی۔