چین نے انڈین ریاست کے علاقوں کو چینی نام دے دیے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

چین نے انڈیا کی ریاست اروناچل پردیش کے 11 علاقوں کے نام بدل کر انھیں چینی نام دے دیے ہیں، جس پر انڈیا نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

چین ریاست اروناچل پردیش میں 90 ہزار مربع کلومیٹر زمین پر ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے تاہم انڈیا اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے الزام عائد کرتا ہے کہ درحقیقت چین نے ریاست کے مغرب میں اکسائی چن کے 38 ہزار مربع کلومیٹر پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ یہ تیسرا موقع ہے جب چین نے انڈین ریاست کے علاقوں کے نام بدل کر انھیں چینی نام دیے ہیں۔

چین کی وزارت شہری امور نے اروناچل پردیش کے 11 علاقوں کے نئے نام چینی، تبتی اور پین یین حروف میں جاری کیے ہیں۔ چین کا کہنا ہے کہ یہ قدم جغرافیائی ناموں سے متعلق چین کی قومی کونسل کے ضابطوں کے تحت اٹھایا گیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ان علاقوں میں اروناچل پردیش کے دو زمینی خطے، دو آبادی والے علاقے، پانچ پہاڑی چوٹیاں اور دو دریاؤں کے نام شامل ہیں۔ اس میں ایک علاقہ ایسا بھی ہے جو اروناچل پردیش کے دارالحکوت ایٹا نگر کے قریب واقع ہے۔

اس سے پہلے چین کی وزارت شہری اُمور نے سنہ 2017 میں اسی انڈین ریاست کے چھ علاقوں کے نام تبدیل کیے تھے جبکہ سنہ 2021 میں چین کی جانب سے 15 علاقوں کے بدلے ہوئے ناموں کی فہرست جاری کی گئی تھی۔

چینی وزارت کی طرف سے گذشتہ اتوار کو 11 علاقوں کے چینی ناموں کے حوالے سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ’جفرافیائی خطوں کے ناموں کے انتظام سے متعلق کابینہ کے متعلقہ ضابطوں کے تحت جنوبی تبت (اروناچل پردیش) کے بعض خطوں کے نام بدل دیے گئے ہیں۔ ان ناموں کا سرکاری طور پر باضاطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔‘

انڈیا نے چین کی جانب سے نام بدلنے کی اس کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment