بلوچستان کے یونیورسٹیزکو بند کرنیکی سازشیں ہورہی ہیں ،این ڈی ایم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ نے اپنے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں جامعہ بلوچستان اور دیگر یونیورسٹیز کو مالی بحران کا شکار بناکر پروفیسرز، افیسرز اور دیگر ملازمین کے بلوچستان تنخواوں کی بندش کے تعلیم دشمن اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے مالی بحران کو فی الفور حل کرکے تنخواہوں کی فوری ادائیگی اور فنڈز کی فوری فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ھے۔

بیان میں کہا گیا ھے کہ استعماری حکمرانوں نے بلوچستان کو ناخواندگی،بدامنی،بھتہ خوری،جبری گمشدگیوں،ماورائے ائین قتل و غارتگری کی اذیت ناک صورتحال کا شکار بنانے کے بعد اب نوجوانوں کوبلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کےحاصل معمولی مواقع بھی ختم کی جارھے ہیں ۔جس کیلئے صوبے کے یونیورسٹیز کو دانستہ طور پر سازش کے تحت مالی بحران سے دوچار کرکے تنخواہوں کیلئے فنڈز فراہم نہیں کیے جارھے۔

بیان میں کہا گیا ھے کہ ہزاروں روپے کے وفاقی اور بلوچستان بجٹ میں بلوچستان کے یونیورسٹیز کیلئے چند ارب روپے نہیں۔اور پروفیسرز و دیگر ملازمین کو روڈوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کیاگیا ھے جس کی مثال کئی بھی نہیں۔

بیان میں کہا گیا ھے کہ سیکورٹی کے نام پر بلوچستان خزانے اور بجٹ سے چالیس ارب سے زائد رقم سالانہ لیے جارھے ہیں اور اسی طرح بلوچستان کے عوام کی کاروبار و تجارت،کول مائینز اور تیل کے کاروبار پر اربوں روپے کی بھتہ خوری سیکورٹی کے ادارے لے رھی ہیں اور بلوچستان کا امن دانستہ طور پر خراب کرکے اب یونیورسٹیز کو بھی بند کرنے کی سازشیں ھورھی ہیں ۔

بیان میں بلوچستان کے تمام جمہوری باالخصوص ترقی پسند،علم دوست اور نیشنلسٹ سیاسی پارٹیوں پر زور دیاگیا ھے کہ وہ اس تعلیم دشمن سازش کیخلاف مشترکہ طور جمہوری مزاحمت کرکے بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور تعلیم کا دفاع کرے اور پروفیسرز و ملازمین اور طلباہ کو روڈوں پر احتجاج کرنے پر مجبور نہ کرے جو کہ تمام سیاسی پارٹیوں کا اولین فریضہ ھے۔

Share This Article
Leave a Comment