اردو ہندوستانی زبان ہے،اسے پاکستانی زبان کہنا غلط ہے، جاوید اختر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

شاعر وادیب ،فلم ساز و دانشور جاوید اختر کا کہنا ہے کہ اردو ہندوستان کی مقامی زبان ہے، اسے پاکستان کی زبان سمجھنا یا کہنا درست نہیں، پاکستان خود ہندوستان کی تقسیم کے بعد وجود میں آیا۔

بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق جاوید اختر اور ان کی اہلیہ شبانہ اعظمی نے اردو شاعری کی اپنی کتاب کی رونمائی کرتے ہوئے ایک تقریب میں اردو زبان کی اہمیت پر بات کی۔

تقریب کے دوران جاوید اختر نے کہا کہ اردو ہندوستانی زبان ہے، اسے مصر یا پاکستان کی زبان سمجھنا غلط ہے۔

ان کے مطابق اردو متحدہ ہندوستان کی مقامی زبان ہے، تاہم اسے آگے بڑھانے اور مقبول بنانے میں پنجاب کا کردار اہم ہے، اردو کو پاکستانی زبان سمجھنا غلط ہے۔

فلم ساز اور لکھاری کا کہنا تھا کہ پاکستان خود تقسیم ہند کے بعد وجود میں آیا، اس لیے اردو کو اس کی زبان قرار دینا صحیح نہیں، البتہ اردو کے فروغ دینے میں پنجاب نے اہم کردار ادا کیا۔

انہوں نے اردو کو پاکستان کی زبان ماننے والے بھارتیوں کے حوالے سے مزید کہا کہ اب پاکستان، کشمیر کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے تو کیا ہم اس کی بات مان لیں؟

جاوید اختر نے یہ شکوہ بھی کیا کہ اب ہندوستان کی نئی نسل اردو میں بات نہیں کرتی، اسے بھلایا جا رہا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نئی نسل بھارت کی قومی زبان ہندی کو بھی کم اہم سمجھتی ہے۔

انہوں نے خطاب میں کہا کہ زبانوں کو مذہب سے جوڑنا غلط ہے، زبان کا تعلق مذہب سے نہیں بلکہ خطے اور ممالک سے ہوتا ہے، اس لیے اردو کسی مذہب کی نہیں بلکہ ہندوستان کی زبان ہے۔

جاوید اختر نے دلیل دی کہ اگر زبانوں کا تعلق مذہب سے ہوتا تو پورے یورپ کی ایک ہی زبان ہوتی، تاہم وہاں تمام ممالک کی الگ الگ زبانیں ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment