امریکا کا 6.8 ٹریلین ڈالر کا بجٹ پیش،کانگریس سے منظوری کے امکانات کم

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کے روز 2024 کے لیے امریکی حکومت کے اخراجات کا تخمینہ پیش کیا۔ 6.8 ٹریلین ڈالر کے بجٹ میں صدر نے پالیسی کے درجنوں نئے منصوبے پیش کیے ہیں اور کارپوریشنز اور دولت مندوں پر ٹیکسوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم کانگریس میں ریپبلکن اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس بجٹ کی کانگریس سے منظوری کا کوئی امکان نہیں۔

صدر بائیڈن کی جو ایک ڈیموکریٹ ہیں صدارت کی یہ پہلی مدت ہے اور وہ آئندہ سال کے صدارتی انتخابات میں دوبارہ منتخب ہونے کی امید رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوبارہ انتخاب کو نظر میں رکھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ چین کی معیشت اور فوجی قوت کے مقابلے کے لیے فنڈز میں اضافے کی ضرورت ہے جن میں امریکیوں کے لیے صحت کی سہولتیں، تعلیم کے نئے مواقع اور ملک کے ماحولیاتی تحفظ کے ادارے کے لیے زیادہ قابل عملے کا حصول شامل ہے۔

بجٹ کی سمری میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ امریکہ کی صرف چین سے مسابقت ہے، جو بین الاقوامی نظام کو از سر نو تشکیل دینے کا عزم رکھتا ہے اورایسا کرنے کے لیے وہ تیزی سے اقتصادی، سفارتی، فوجی اور تکنیکی طاقت میں اضافہ کر رہا ہے۔

صدر بائیڈن نے امریکی ریاست پنسلوانیا کے شہر فلاڈلفیا کے یونین ہال میں بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے ایوان کے سپیکر کیون میکارتھی پر زور دیا کہ وہ بھی اپنا منصوبہ پیش کریں تاکہ دونوں کا موازنہ کر کے وہ نکات طے کیے جائیں جن پر اتفاقِ رائے ہو۔

صدر نے کہا، ’’میں نے اپنے بجٹ کا بڑا حصہ بیان کر دیا ہے۔ کانگریس میں رپبلکنز کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئیے۔ پھر ہم مل کر بیٹھ جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے درمیان اختلاف کن نکات پر ہے۔‘‘

Share This Article
Leave a Comment