روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے روز یوکرین کے حوالے سے مغرب کو ایک انتباہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق معاہدے کو معطل کر رہا ہے۔اس کے ساتھ انہوں نے جوہری تجربات دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
یوکرین پر حملے کا حکم دینے کے تقریباً ایک سال بعدپوٹن نے کہا ہے کہ روس اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مغرب اسے تباہ کرنے کی کوشش کرر ہاہے۔ یوکرین پر روسی حملے نے گزشتہ 60 سال کے عرصے میں مغرب کے ساتھ سب سے بڑے تصادم کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے اپنے ملک کی سیاسی اور عسکری اشرافیہ سے کہا کہ ’’ مغرب کی اشرافیہ نے اپنا مقصد پوشیدہ نہیں رکھا۔ لیکن وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ میدان جنگ میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے۔‘‘
یہ الزام لگاتے ہوئے کہ امریکہ جنگ کو ایک عالمی تنازع میں بدل رہا ہے، پوٹن نے کہا کہ روس ’’نیو اسٹارٹ‘‘ معاہدے میں اپنی شمولیت معطل کر رہا ہے، جو واشنگٹن کے ساتھ اس کا ہتھیاروں پر کنٹرول کا سب سے بڑا آخری معاہدہ ہے۔
روس اور امریکہ کے درمیان سٹریٹیجک جوہری ہتھیاروں کی تعداد محدود کرنے سے متعلق یہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا جس پر اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب دمتری میدویدیف نے دستخط کیے تھے۔