اب چین روس کو ہتھیار فراہم کر سکتا ہے، امریکی وزیر خارجہ

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ چین روس کو یوکرین جنگ کے لیے ہتھیار اور گولہ بارود دینے پر غور کر رہا ہے۔

انتھونی بلنکن نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ چینی کمپنیاں پہلے ہی روس کو ’غیر مہلک مدد‘ فراہم کر رہی ہیں اور نئی معلومات کے مطابق بیجنگ اب ’مہلک مدد فراہم کر سکتا ہے‘۔

انھوں نے خبردار کیا کہ اس اضافی ترسیل کا مطلب چین کے لیے ’سنگین نتائج‘ ہوں گے۔

چین نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ماسکو نے ان سے فوجی سازوسامان کی درخواست کی ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اتحادی ہیں اور انھوں نے ابھی تک روس کے حملے کی مذمت نہیں کی ہے لیکن انھوں نے تنازع میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے اور امن کا مطالبہ کیا ہے۔

انتھونی بلنکن سنیچر کو میونخ سکیورٹی کانفرنس میں چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی سے ملاقات کے بعد سی بی ایس سے بات کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران انھوں نے اس امکان کے بارے میں ’گہری تشویش‘ کا اظہار کیا کہ چین روس کو مہلک مدد فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا ’آج تک ہم نے دیکھا ہے کہ چینی کمپنیاں یوکرین میں استعمال کے لیے روس کو غیر مہلک مدد فراہم کرتی رہیں۔ ہمیں جو تشویش ہے وہ ان معلومات کی بنیاد پر ہے جو ہمارے پاس موجود ہیں کہ وہ مہلک مدد فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ امریکہ کو چین کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں کیا معلومات ملی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ کے خیال میں چین روس کو کیا دے سکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ یہ بنیادی طور پر ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ گولہ بارود بھی ہوگا۔

امریکہ نے روس کو ہزاروں جنگجو سپلائی کرنے والے کرائے کے ویگنر گروپ کو مبینہ طور پر یوکرین کی سیٹلائٹ تصاویر فراہم کرنے کے الزام میں ایک چینی کمپنی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انتھونی بلنکن نے سی بی ایس کو بتایا کہ ’یقیناً چین میں نجی کمپنیوں اور ریاست کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اگر چین نے روس کو ہتھیار فراہم کیے تو یہ ہمارے لیے اور ہمارے تعلقات میں سنگین مسئلہ پیدا کرے گا۔

فروری کے اوائل میں امریکہ کی جانب سے ایک مبینہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرائے جانے کے بعد واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات پہلے ہی خراب تھے۔ فریقین نے غصے سے بھرے الفاظ کا تبادلہ کیا، لیکن یکساں طور پر دونوں ہی اس واقعے سے شرمندہ دکھائی دیے اور آگے بڑھنے کے لیے تیار نظر آئے۔

لیکن اگر چین یوکرین میں روسی افواج کی مدد کے لیے ہتھیار پہنچاتا ہے تو امریکہ اور چین کے تعلقات بہت زیادہ خراب ہونے کا امکان ہے۔

انتھونی بلنکن نے چین کو ایسا کرنے سے روکنے کے لیے واضح طور پر تنبیہ کی ہے۔

انتھونی بلنکن نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اس بات پر تشویش ہے کہ چین روس کی معیشت کو تباہ کرنے والی مغربی پابندیوں سے بچنے میں روس کی مدد کر رہا ہے۔ روس کے ساتھ چین کی تجارت بڑھ رہی ہے، اور یہ روسی تیل، گیس اور کوئلے کی سب سے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

امریکہ سمیت نیٹو کے ارکان یوکرین کو ٹینکوں سمیت مختلف قسم کے ہتھیار، گولہ بارود اور سامان بھیج رہے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ مغرب کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ یوکرین کے پاس وہ سب ہو جو آئندہ مہینوں میں روس کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے اسے درکار ہے۔ روس اس وقت یوکرین کے مشرقی علاقوں میں پیش قدمی کی کوشش کر رہا ہے جہاں شدید ترین لڑائی ہوئی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment