پی ڈی ایم اقتدار میں آکر فوت ہوچکا ہے،محسن داوڑ

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے چیئرمین رکن قومی اسمبلی محسن داوڑنے گذشتہ روز ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب کے دورے کے موقع پر سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ڈی ایم جس مقصد کے لئے قائم کی اور اقتدار میں آئی تھی وہ فوت ہوچکا ہے ، حکمرانوں کا ملک اور قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام نظر نہیں آرہا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی معاشی پالیسی ہے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے سخت شرائط پر پاکستان کو قرضہ دے رہے ہیں اور دوست ممالک بھی مدد کو آئی ایم ایف معاہدے سے جوڑ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر غیرآئینی ہے ملک اور اداروں کو آئینی طور پر چلاکر مسائل کے حل کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

اس موقع پر پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مزمل شاہ ، بلوچستان کے صدر احمد جان ، مرکزی کمیٹی کے رکن ہارون بازئی ، بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اسفند یار خان کاکڑ ، ملک بہار ، رحمت وطن پال ، عنایت شاہ سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔

محسن داوڑ نے کہا کہ پی ڈی ایم جب معرض وجود میں آئی تھی تو ہمارے ساتھ رابطے کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا اس کے لئے ایک چارٹر بناکر ایک دو ماہ میں انتخابات کرادیئے جائیں گے لیکن ایسا ممکن نہ ہوا کیونکہ موجودہ صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور سیاسی اور معاشی حالات بدل رہے ہیں2 صوبوں کی اسمبلیاں ٹوٹ چکی ہیں ۔

حکومت انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ کرنے سے دوسری سیاسی جماعتوں جواز مل رہا ہے جو خطرناک ، غیر جمہوری اور غیر آئینی طریقہ ہے ہمیں آئین پر عمل کرنا ہوگا نہ کہ دوسروں کے فیصلوں اور عمل کو جواز بناکر غلط کام کریں ، جس طرح ضمنی اور دو صوبوں میں انتخابات کے حوالے سے حالات بنائے جارہے ہیں ۔ آئی ایم ایف ملک کو کڑی شرائط پر قرضہ دینے کے لئے مائیکرو منیجمنٹ کی سطح پر آکر شرائط عائد کررہا ہے ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے اگر ایسا ہوا تو حالات مزید خراب ہوں گے اور آئی ایم ایف و دیگر عالمی اداروں کو مزید من مانی کا موقع ملے گا ، اس وقت غریب عوام کو دو وقت کی روٹی چاہیے انہیں کسی اور بات سے غرض نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک بار پھر جنگ کی جانب دھکیلا جارہا ہے جس سے ہم نکلنے کا دعوی کررہے ہیں، تخریب کار خیبر پختونخوا، اسلام آباد، کراچی جہاں چاہتے ہیں حملے کررہے ہیں انہیں مذاکرات کے ذریعے لانے کے لئے دلائل دیئے گئے، سیاسی جماعتوں کو جمہوریت کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی کے لئے کردار ادا کرنا ہوگاعوامی نمائندوں اور پارلیمنٹرین کو ملک اور قوم کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کےلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ قانون کی بالادستی سے ہی اداروں میں استحکام آئے گا اور معاملات بہتر ہوں گے۔ ملکی معیشت بہتر ہوگی آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے قرضہ دینے کے لئے مزید کڑی شرائط عائد کررہے ہیں اب تو دوست ممالک بھی مدد کرنے سے کتراتے ہوئے آئی ایم ایف کے معاہدے سے اپنے تعاون کو جوڑ رہے ہیں اگر یہی حالات شدت اختیار کرتے رہے تو ہم مزید مشکلات کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہوسکیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں محسن داوڑ نے کہا کہ افغانستان میں نئی حکومت کے بعد جس طرح حالات بنے ہیں محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان کو دوبارہ لانچنگ پیڈ کے طور پر پیش کیا جائے گا، اس حوالے سے سیاسی رہنماوں اور لیڈر شپ کو بات کرنی چاہئے ۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایم آر ڈی میں ملک میں جمہوریت کی مضبوطی اور استحکام کے لئے چارٹر سائن کیا گیا تھا اور اس کے بعد چارٹر آف ڈیمو کریسی تشکیل دیا گیا جس کے توسط سے اٹھارہویں ترمیم کثرت رائے سے منظور کی گئی پی ڈی ایم کو بنانے کے لئے 27 نکات دیئے گئے جن میں سے زیادہ پر عملدرآمد ہی نہیں کیا گیا اگر ان پر عمل ہوتا تو آج گورننس کی صورتحال بہتر ہوتی موجودہ حکمران عوام اور ملک میں درپیش مسائل سے چشم پوشی اختیار کرچکے ہیں اس لئے انہیں ان کے حل سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی کوئی جدوجہد کررہے ہیں ۔ وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں کے وزرا اپنے قائدین کو جواب دہ ہیں نہ کہ وزیراعظم اور عوام کو کہ وہ ملک اور قوم کی بہتری کے لئے کیا کررہے ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment