بلوچستان کے ساحلی ضلع اور سی پیک حب گوادر کے تحصیل جیوانی میں مقامی ذرائع سے اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ پاکستان کوسٹ گارڈ کی جانب سے علاقے کے سیاسی و سماجی عمائدین کو کیمپ طلب کرکے بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالنے کیلئے زوردیا جارہا ہے ۔
واضع رہے کہ رواں مہینے جیوانی میں کوسٹ گارڈ کے اوپر یکے بعد دیگرے دو ریموٹ کنٹرول بم حملوں میں کم از کم 7 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے، ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان آزاد بلوچ نے قبول کیے تھے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق ڈی آئی جی کوسٹ گارڈ کی سربراہی میں مذکورہ افراد کو کیمپ میں بلا کر کہا گیا کہ وہ بی ایل اے کے حالیہ حملوں کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج کریں اور اس بات کو واضح کریں کہ وہ پاکستانی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ کوسٹ گارڈ نے مذکورہ افراد کو یقین دلایا کہ انہیں فل پروف سکیورٹی دی جائے گیجبکہ لوگوں نے فورسز کے اس عمل کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ منفی ردعمل ملنے پر مذکورہ افراد کو کل گوادر میں واقع کوسٹ گارڈ کے ہیڈکوارٹرز میں طلب کیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق جیونی میں کوسٹ گارڈپر حملوں کے بعد پاکستانی فوج و خفیہ ایجنسیوں میںشدید بے چینی ہے۔