بلوچ آزادی پسند اور بلوچستان لبریشن فرنٹ کے رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر قابض پاکستانی فوج کی مقبوضہ بلوچستان میں بربریت کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے تازہ ٹیوٹ میں کہا ہے کہ
شہریوں کے خلاف جاری پاکستانی فوجی کاروائیاں بلوچستان میں کوویڈ19 کے خلاف کارروائی سے متعلق ہمارے خدشات کی تصدیق کرتی ہیں۔ شوکت ولد تلاہو اور نور خان ولد بشیر کو کولواہ میں بے دردی سے قتل کیا گیا۔
مریم بنت علی محمد، چھوٹے بچوں ماہل، گوہر اور نو ماہ کے اسد کو پاکستانی فوج نے اغوا کیا اور کیچ کے بدرنگ آرمی کیمپ میں رکھا ہے۔ گوکہ ان کا دعوی ہے کہ مزید تعیناتیوں کا مقصد کورونا وائرس کو کنٹرول کرنا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی قوم پرست آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ٹیوٹس میں یہ کہا ہے کہ عالمی وبا کرونا وائرس کی آڑ میں پاکستانی فوجی کی مقبوضہ بلوچستان میں مزید تعیناتی اجتماعی بلوچ نسل کشی کا ایک منظم پروگرام ہے۔
موجودہ صورت حال اور حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہو چکا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ بلوچستان میں کورونا وائرس کی آڑ میں آپریشنز میں تیزی لانے کے ساتھ بلوچ نسل کشی کو تیز کر رہا ہے۔