برازیل: سرکاری عمارتوں پر حملوں کیخلاف آرمی چیف برطرف

0
42
Photo : EPA

برازیل کے رواں ماہ صدر بننے والے لویز اناسیو لولا ڈیسلوا نے نئے آرمی چیف کو بر طرف کر دیا ہے۔

یہ برطرفی ان کے جانشین سابق صدر بولسونارو کے حامیوں کی دارالحکومت برازیلیا میں سرکاری عمارات پر حملوں اور توڑ پھوڑ کیے جانے کے واقعات کے بعد سامنے آئی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق آرمی چیف جنرل جولیو سیزر ڈی اروڈا کی برطرفی لولا ڈیسلوا نے اپنے پہلے بیرون ملک دورے پر روانگی سے قبلکی۔ وہ ارجنٹائن کا دورہ کرنے جا رہے ہیں۔

آرمی چیف کی یہ برطرفی ایسے موقع پر ہوئی ہے کہ جب صدر لولا جنوبی امریکہ کے پاور ہاؤس کہلانے والے اس ملک کو بین الاقوامی اسٹیج پر واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جنرل اروڈا سبکدوش ہونے والے سابق صدر بولسونارو کی مدتِ صدارت ختم ہونے سے دو دن قبل یعنی 30 دسمبر 2022 کو آرمی چیف مقرر کیے گئے تھے جب کہ نئے کامیاب ہونے والے صدر لولا ڈیسلو کی انتظامیہ نے اس تقرری کی جنوری کے اوائل میں تجدید کی تھی۔

صدر لولا ڈیسلوا نے آرمی کے اعلی افسران سے جمعے کو ملاقات کی تھی جب کہ ملاقات میں شریک حکام میں سے کسی نے بھی بعد ازاں کوئی معلومات فراہم نہیں کی تھیں۔

صدر لولا ڈیسلوا نے دارالحکومت میں ہونے والے انتشار کے بعد کئی فوجی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد کو اپنی سیکیورٹی سے ہٹا دیا تھا۔

سبکدوش ہونے والے سابق صدر بولسونارو کے حامیوں نے رواں ماہ آٹھ جنوری کو دارالحکومت برازیلیا میں صدارتی محل، سپریم کورٹ اور کانگریس پر دھاوا بول دیا تھا، جس میں انہوں نے کھڑکیاں، فرنیچر، نادر فن پاروں کو نقصان پہنچایا تھا جب کہ دیواروں پر فوجی بغاوت کے مطالبات کی چاکنگ کی گئی تھی۔

صدر لولا ڈیسلوا کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان فسادات میں سیکیورٹی فورسز بھی ملوث ہیں جب کہ فسادات کرنے والے 200 سے زائد افراد کو حراست میں بھی لیا گیا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here