سیاسی کارکنوں کا راستہ روکیں گے تو وہ پہاڑوں پر جائینگے،لشکری رئیسانی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ہفتے کے روز نوری نصیر خان کلچرل کمپلکس میں بلوچستان پیس فورم کے زیر اہتمام ”نیشنل ڈائیلاگ آن ری ایمرجننگ پاکستان“ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقدہ کیا گیا۔

سیمینار میں بلوچستان پیس فورم کے سربراہ نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی، سابق وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر خزانہ پاکستان وزیر مفتاح اسماعیل،سینیٹر فرحت اللہ بابر، سابق سینیٹرمصطفی نواز کھوکھر، سابق پاکستانی وزیر خواجہ محمد ہوتی،بلوچستان کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ و رکن اسمبلی نواب اسلم رئیسانی سمیت دیگرسیاسی جماعتوں، وکلاء برداری،صحافی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خطاب کیا۔

سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے حاجی میرلشکری نے کہا کہ پاکستان اس وقت مشکل دور سے گزررہا ہے ملک کی سیاست کا محور عوامی مسائل کا حل نہیں بلکہ انتقام کی سیاست ہے، سیاست میں مداخلت نے سیاسی نظام کو نقصان پہنچایا ہے،معاشی اور معاشرتی حالات ابتر ہوتے جارہے ہیں،عوامی مسائل پر پارلیمنٹ کی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں احساس محرومی بڑھ رہا ہے،سیاسی نظام کو پنپنے نہ دیا گیا تو لوگ پہاڑوں پر جانے پر مجبور ہونگے، لوگوں کے مسائل کو سننے اور انہیں حل کرنے کی سکت پیداکرنے کی ضرورت ہے،اگر نیا عمرانی معاہدہ بھی کرنا پڑے تو یہ اقدام بھی اٹھایا جائے۔

بلوچستان پیس فورم کے سربراہ نوابزادہ حاجی میرلشکری خان رئیسانی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس بلاکرایک قرارداد کے ذریعے صوبے کے وسائل بیچے گئے بلوچستان کی ماؤں بہنوں نے تین ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرکے سپریم کورٹ کے سامنے انصاف کی اپیل کی انہیں بھی انصاف نہیں ملا بلوچستان کے 80فیصد لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں گوادر کے لوگ اپنی بنیادی ضروریات،چیک پوسٹوں کے خاتمے کیلئے احتجاج کر رہے ہیں کسی بھی سیاسی جماعت نے آج تک 20سے 25ہزار خواتین کی ریلی نہیں نکالی لیکن گوادر کی خواتین اپنے حقوق کیلئے اتنی بڑی تعداد میں نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک پرکئی سو ارب ڈالر کا قرضہ ہوگیا ہے بتایا جائے کہ پہلا قرض کس نے لیا وہ کتنا قرض تھاکہاں خرچ ہوا اور اب جو قرض لیا جارہا ہے وہ پیسے کہاں خرچ ہورہے ہیں آج ملک کنگال ہوچکا ہے ہمارے نام پر لوگ قرض لیکر بعد میں چلے جاتے ہیں پاکستان کا قرض کا بلیک ہول بن چکا ہے کیا جوقرض لیا گیا اسکا 6فیصد بھی بلوچستان پرخرچ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں فرضی دشمنوں سے ڈرایا گیا اور ہزاروں لوگوں کی لاشیں گریں ہم ایک نئے تصور کے ساتھ مداخلت کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ انتظامی معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے فاٹابدنام تھا اب بلوچستان میں راتوں رات سیاسی جماعتیں بن جاتی ہیں ایسی جماعتیں پارلیمنٹ میں جاکرعوام کی نمائندگی نہیں کرسکتیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی،زیڈ کے بی کے احمد خان اور ملتانی محلے کے عبدالقادر کو سینٹ میں بھیجا گیاانکا کیا سیاسی نظریہ ہے آج سیاسی جماعتوں نے ان تمام لوگوں کواپنے سرکا تاج بنایا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کہا کہ وہ نیوٹرل ہوگئے ہیں لیکن ماضی میں مداخلت اور حلف کی خلاف ورزی پر تحقیقات ہونی چاہئے۔ مسنگ پرسنز کے مسئلے کو غیرذمہ داری سے حل نہیں کیا جاسکتا۔جسٹس جاوید اقبال مسنگ پرسنز کمیشن کے سربراہ تھے لیکن وہ نیب میں سیاسی رہنماؤں کی پگڑیاں اچھالنے میں اتنے مصروف ہوگئے کہ انہوں نے اس مسئلے پرتوجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ اب اسلام آباد ہائیکورٹ اوراسکے بعدبلوچستان حکومت نے بھی کمیشن بنادیئے ہیں تاکہ افراتفری پھیلاکرمسائل سے توجہ ہٹائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں ملک کے نظام اور مداخلت کرنے والوں کو ہرتین ماہ بعد آئینہ دیکھاتا رہتا ہوں ہماری باتوں پر غور کرنے کی بجائے ہماری مخالفت اور ختم کرنے کیلئے لوگ سرجوڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کسی سیاسی جماعت کے پاس معاشی ٹیم نہیں ہے کرایے کے ماہرین معیشت لائے جائیں گے تو نظام کیسے ٹھیک ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے پانچ سال تک اسٹے پر ایک شخص کو رکن پارلیمنٹ بنائے رکھا ہماری آواز اور ووٹ دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھی سیاست اور وفاق مائنس بلوچستان چل رہے ہیں اگر سیاسی کارکنوں کا راستہ روکیں گے تو وہ پہاڑوں پر جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امن،ترقی،صحت،خوشحالی چاہتے ہیں مگر ہمارا اختیار صوبے کے لوگوں کے پاس ہونا چاہئے۔

Share This Article
Leave a Comment