بلوچ مسنگ پرسن کا معاملہ شرمندگی کا باعث ہے، شاہد خاقان

0
61

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کا بڑا مسئلہ الیکشن میں جیتنے اور ہارنے والوں کی لسٹ بننا ہے ایسا ہوتا رہے گا تو پھر مسائل حل نہیں ہوں گے۔

کوئٹہ میں سیمینارسے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمارا مقصد کوئی ووٹ حاصل کرنا یا کسی کو نیچا دکھانا نہیں ہے، جب قومی اسمبلی، سینیٹ میں ایک دوسرے کو گالیاں دی جائیں تو عوامی مسائل ایک طرف رہ جاتے ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے معیشت کی بدحالی انتہا کو پہنچ چکی ہے، اگر قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلیوں میں مسائل پر بات ہو رہی ہوتی تو اس سیمینارکی ضرورت نہیں تھی۔

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ مسائل اس حد تک بڑھ چکے ہیں کوئی تنہا جماعت حل نہیں کر سکتی، سیاسی مفادات سے ہٹ کر دیکھنا ہو گا، صرف سیاست دان ذمہ دار نہیں عدلیہ کی حالت سب کے سامنے ہے، نیب، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ کا خوف ہو گا تو پھر سب ذمہ دار ہیں، پاکستان آج اپنے مسائل کی انتہا پر موجود ہے، ملک سیاسی انتشار کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا، سیاست دان اور ماہرین میں احساس نظر نہیں آ رہا۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن سکول، ہسپتالوں کا معیار بہتر نہ کر سکے، یہ بہت بڑی ناکامی ہے، آج ایک دوسرے پر الزام لگانے نہیں یکجا ہو کر چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہو گا، آج پاکستان کو بنیادوں کی طرف واپس آنا پڑے گا،عوام کی رائے، قانون کا احترام نہیں کریں گے تو پھر پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔

مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما نے کہ اہے کہ اکیسویں صدی میں مسنگ پرسن کا معاملہ شرمندگی کا باعث ہے، یہ انصاف کے نظام اور آئین کی ناکامی ہے، انسانی حقوق آئین کی بنیاد ہوتے ہیں، معاملات اس وقت حل ہوں گے جب الیکشن میں لسٹیں بنانا چھوڑ دیں گے، معاملات اس وقت حل ہوں گے جب راتوں رات جماعتیں بنانا ختم ہو جائیں گی، سینیٹ میں پیسے چلنا ہم سب کیلئے شرمندگی کا باعث ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں انصاف کا نظام بھی مفلوج ہو چکا ہے، جب انصاف وقت پر نہیں ملتا تو پھر لوگ دوسرا راستہ اختیار کرتے ہیں، ہم سب نے حکومتیں کی ہیں لیکن مسائل حل نہیں کر سکے ہم سب کیلئے شرمندگی کا باعث بھی ہے، سبق حاصل کرنا ہو گا، ملک میں تعلیم، صحت کے معاملات کو بہتر کرنا ہوگا، حکومت کو سروس کی ڈیلیوری کرنی پڑے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here