خواتین کے حقوق پر افغان طالبان مابین اختلافات ہیں، اقوام متحدہ

0
50

افغانستان میں طالبان رہنماؤں سے ملاقات کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کچھ رہنماؤں نے کھلے ذہن کا مظاہرہ کیا لیکن کچھ نے واضح طور پر مخالفت کی۔

ایک اعلیٰ خاتون عہدیدار کی قیادت میں اقوام متحدہ کے وفد نے خواتین کی صورت حال کا براہ راست جائزہ لینے کے لیے کابل، قندھاراور ہرات کا چار روزہ دورہ جمعے کے روز مکمل کر لیا۔

وفد نے طالبان انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جاری اقدامات ختم کرے۔

اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے دورے کے بعد بتایا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے کچھ طالبان عہدیداروں نے کھلے ذہن کا مظاہرہ کیا لیکن کچھ نے واضح طور پر اس کی مخالفت کی۔ انہوں نے تاہم وفد سے ملاقات کرنے والے طالبان کے کسی عہدیدار کا نام ظاہر نہیں کیا۔

اقوام متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے بتایا کہ ان ملاقاتوں میں 20 سال کی جنگ کے بعد امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا اور اگست 2021 میں اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد کی گئی پابندیوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

فرحان حق نے کہا کہ اقوام متحدہ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل امینہ محمد کی سربراہی میں دورہ کرنے والے وفد نے پایا کہ”طالبان کے کچھ عہدیداروں نے تعاون کا مظاہرہ کیا اور انہیں پیش رفت کے کچھ آثار دکھائی دیے۔“

ترجمان کے مطابق، ”اہم بات یہ ہے کہ ان (طالبان) عہدیداروں کے ساتھ مفاہمت کی جائے جوسخت موقف اختیار کرنے والے حکام کے مقابلے میں ان کی بات سننے کو تیار تھے۔“

فرحان حق نے زور دیتے ہوئے کہا، ‘خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے طالبان کے درمیان مختلف سوچ ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ کی ٹیم کوشش کرے گی کہ وہ ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے مل کر کام کریں جو ہم چاہتے ہیں اور جس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو مکمل طور پر معاشرے کا دوبارہ حصہ بنانا اور ان کے حقوق واپس لوٹانا ہے۔“

نائجیریا کی سابقہ وزیر امینہ محمد کے ساتھ اس دورے میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کو فروغ دینے والی اقوام متحدہ کی خواتین کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما باہوس اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے سیاسی امور خالد خیاری بھی شامل تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here