کراچی و تربت سے لڑکی سمیت 4 نوجوان پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کےضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت اور کراچی کے بلوچ علاقے لیاری سے پاکستانی فورسز ایک 4 افراد کو حراست میں لیکر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جن میں ایک لڑکی بھی شامل ہے جو ایک طالب علم ہے۔

کراچی کے علاقے کلری لیاری، علی محمد محلہ میں گزشتہ روز فورسز کی جانب سے متعدد گھروں پر چھاپے مارے گئے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران دو طالب علم، عائشہ دختر لال جان اور داؤد ولد ابراہیم کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

دونوں طلبہ کی عمریں 18 سے 20 سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔

تاحال ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث اہلِ خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ اہلِ علاقہ اور خاندان کے افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں طالب علموں کو فوری طور پر بازیاب کر کے ان کی محفوظ واپسی یقینی بنائی جائے۔

دوسری جانب تربت سے فورسز نے دو سگے بھائیوں کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کردیا ۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ 2026-2ـ28 کے روز سحری کے وقت 4.30 بجے تربت گلشن آباد سے فورسز نے دو بھائیوں ذکریا ولد محمد عوض اور ریحان ولد حاجی عوض کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کر دیا۔

ان کے اہل خانہ نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ دونوں بھائیوں کی بازیابی کے لئے آواز بلند کریں۔

Share This Article