بلوچستان کے ماہیگیروں کومزدور کا درجہ ملنے پر ہر قسم کی سہولتیں میسر ہو سکتی ہیں،سعید بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
1 Min Read

ماہی گیروں سمیت دوسرے مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم پاکستان فشر فوک فورم سینئر وائس چیئرمین سعید بلوچ نے ماہیگیروں کو مزدور کا درجہ دینے کے حکومت بلوچستان کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے 90 ہزار مزدور اب تک قانونی مراعات اور سہولتوں سے محروم تھے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے اس فیصلے سے ماہی گیروں کو حکومتی ہاؤسنگ اسکیمز، سوشل سکیورٹی اور بڑھاپے میں پینشن کی سہولتیں میسر ہو سکتی ہیں۔

سعید بلوچ نے کہا: ’ماہی گیروں کی مزدور یونینیں موجود نہیں تھیں، اور اب وہ حقوق کے حصول کی جدوجہد کے لیے ٹریڈ یونینز بھی بنا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ صوبہ سندھ نے پہلے ہی لیبر قوانین میں ترامیم کر کے ماہی گیروں کو مزدور کا درجہ دیا ہوا ہے۔

سعید بلوچ کے خیال میں بلوچستان کے مچھیرے کو مزدور کا سٹیٹس ملنے کے بعد وہ مستقبل میں اپنے روزگار، مچھلیوں کی فروخت اور بڑی لانچوں کے مالکان کے ساتھ بہتر سودے بازی کی پوزیشن میں ہوں گے۔ 

Share This Article
Leave a Comment