برازیل میں مظاہرین کا پارلیمنٹ،صدارتی محل و سپریم کورٹ پر حملہ

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read
Photo : EPA

برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو کے ہزاروں حامیوں نے اتوار کو ملک کے دارالحکومت میں کانگریس، سپریم کورٹ اور صدارتی محل پر دھاوا بول دیا۔

برازیل کے موجودہ صدر لولا ڈی سلوا نے اس واقعے کو ’غیر معمولی‘ قرار گردانتے ہوئے اسے ’جنونی فسطائیوں‘ کی کارروائی قرار دیا اور اعلان کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے گی۔

اتوار کو صدر لولا ڈی سلوا نے ایمرجنسی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نیشنل گارڈ کو ملکی دارالحکومت میں امن و امان بحال کرنے کے لیے ذمہ داری سونپی اور کئی گھنٹوں کے ہنگاموں اور جھڑپوں کے بعد صورتحال معمول پر آ سکی۔

صدر لولا نے ملک کی سکیورٹی فورسز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس پر حملے کی وجہ سکیورٹی فورسز کی ’نااہلی یا بدنیتی‘ بھی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’تصاویر میں دیکھا گیا کہ پولیس افسران مظاہرین کو راستہ دکھا رہے ہیں۔‘ برازیل کی ایک خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جاری کردہ تصاویر میں چند پولیس افسران کو مظاہرین کے ساتھ قہقے لگاتے اور تصاویر کھنچواتے دیکھا گیا۔

تاہم سابق صدر جائیر بولسونارو، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ملک سے باہر اور امریکی ریاست فلوریڈا میں موجود ہیں، نے اس حملے کی مذمت کی ہے اور مظاہرین کو اکسانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

واضح رہے کہ جائیر بولسونارو نے حالیہ انتخابات کا نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ملک سے باہر چلے گئے تھے۔

برازیل کے جھنڈے کے زرد اور سبز رنگ کی ٹی شرٹس پہنے حملہ آوروں نے ملک کی ان عمارتوں کو نقصان بھی پہنچایا جن کو اہم جمہوری علامات مانا جاتا ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہوا؟

دو ماہ قبل اکتوبر 2022 میں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے جائیر بولسونارو اور ان کے حریف بائیں بازو کے لولا ڈی سلوا کے درمیان صدارتی انتخابات میں سخت مقابلہ ہوا تھا۔

واضح رہے کہ لولا ڈی سلوا 20 سال پہلے تبدیلی کے وعدے کے ساتھ برازیل میں برسراقتدار آئے تھے اور 2003 سے 2010 تک صدر رہے۔ بعد میں کرپشن کے الزامات میں انھیں سزا ہوئی اور 2018 کے انتخابات کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا۔ انھیں جیل جانا پڑا، تاہم بعد میں تمام الزامات منسوخ کر دیے گئے۔

جائیر بولسونارو 2019 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔

اس بار الیکشن سے قبل کی انتخابی مہم بھی کافی جارحانہ تھی جس کے بعد کانٹے دار مقابلے میں لوُلا 50.9 فیصد ووٹوں سے کامیاب ہوئے۔

جائیر بولسونارو کا بیانیہ جس نے اس تقسیم کی بنیاد رکھی اور برازیل کے الیکشن نظام پر ان کے سوالات نے بھی اس عوامی ردعمل میں کردار ادا کیا۔

الیکشن سے پہلے انھوں نے بارہا دعویٰ کیا کہ برازیل کا الیکٹرانک ووٹنگ نظام فراڈ کا شکار ہو سکتا ہے۔ تاہم الیکشن حکام نے اس دعوے کو مسترد کیا۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ الیکشن چوری کیا گیا۔

اس کے علاوہ انھوں نے اپنی تقاریر اور ٹویٹس میں بھی ایسے بیانیے کو فروغ دیا جس نے عوام کو بڑے پیمانے پر تقسیم کیا۔

برازیل میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کے بعد جائیر بولسونارو نے صدر لولا ڈی سلوا کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انھوں نے اپنی تقاریر میں لوگوں کو دارالحکومت میں ہنگامہ آرائی کرنے پر اکسایا۔

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری عمارات پر حملہ غیر قانونی ہے۔

TAGGED:
Share This Article
Leave a Comment