کولواہ:پاکستانی فوج کے ہاتھوں خواتین و بچوں سمیت سات افراد لاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

پاکستانی فوج نے کیچ کے علاقے کولواہ بدرنگ سے دوران آپریشن خواتین و بچوں سمیت سات افراد کو حراست میں لینے کے بعد عقوبت خانوں میں منتقل کردیا ہے

تفصیلات کے مطابق آج مغرب کے وقت پاکستانی فوج نے دورانِ آپریشن کولواہ کے علاقے بدرنگ میں رضائی کے گھر میں چھاپہ مار کر گھر میں موجود خواتین و بچوں سمیت تمام افراد کو حراست میں لینے کے بعد فوجی عقوبت خانوں میں منتقل کردیا ہے

حراست بعد لاپتہ ہونے والوں میں ماں سمیت چار کمسن بچیاں بھی شامل ہیں جنکی شناخت بی بی مریم بنت علی محمد اور کمسن بچیاں ماھل، گوہر، اسد اور نو مہینے کی مہلب کے ناموں سے ہوئی ہے ان کے علاوہ رضائی اور پیر بخش ولد رضائی کو بھی پاکستانی فوج نے حراست میں لیا ہے جس کے بعد یہ تمام لوگ عقوبت خانوں میں قید ہیں

بتایا جارہا ہے گھر والوں کو حراست میں لینے کے بعد پاکستانی فوج نے گھر سمیت تمام مال مویشیوں کو بھی نظرِ آتش کیا ہے

کیچ اور پنجگور میں فورسز کی جانب سے دوسرے روز بھی آپریشن جاری رہی جہاں مختلف علاقوں میں فورسز نے گھروں پر چھاپے مارے اور کئی افراد کو حراست لینے سمیت گھروں کو نظرآتش کیا گیا۔

ماضی میں بلوچ خواتین اور بچے کے جبری گمشدگیوں کے واقعات بلوچستان کے مختلف علاقوں سے رپورٹ ہوتی رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھانے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق سینکڑوں کی تعداد میں بلوچ خواتین و بچے پاکستانی خفیہ اداروں کے حراست میں ہیں جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔

دریں اثنا پاکستان بھر میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے انیس اپریل کو

#SaveMissingPersons

ہیش ٹیگ کیساتھ کمپئین کا اعلان کیا ہے جس میں بلوچ سماجی اور سیاسی حلقے حصہ لینے کا اظہار کرچکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment