لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے کام کرنے والی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک بار پھر لاپتہ افراد بازیابی کے لئے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو دوبارہ شروع کرنا چاہتا تھا کہ دوستوں کی مشاورت اور کورونا کی وجہ ایک بار پھر اس فیصلے کو موخر کرنا پڑا،بیس تاریخ تک بھوک ہڑتالی کیمپ بند رہے گااور اکیس کو جو ہوگا جیسا ہوگا کیمپ کو دوبارہ شروع کیا جائیگا۔
انہوں نے کہا کہ میں گورنمنٹ پاکستان سمیت بین الاقوامی ادارے اقوام متحدہ سمیت یورپی یونین سے اپیل کرتا ہوں کہ کورونا ایسی مرض ہے جسکی کوئی دوا ہی نہیں اسی وجہ سے عقوبت خانوں میں قید لاپتہ افراد کی زندگی کو شدید خطرہ لائق ہے اس وقت پنجاپ کے جیلوں میں قید اٹھانوے قیدی اس مرض میں مبتلاپائے گئے ہیں یہ وبا اس وقت عقوبت خانوں میں بھی جاسکتی ہے لہذا عقوبت خانوں میں جنتے بھی لوگ قید ہیں انہیں بازیاب کیا جائے یا عدالتوں میں پیش کریں تاکہ وہ اس موضی مرض سے بچ سکیں۔
ماما نے اپنے ویڈیو پیغام کے آخر میں انسانی کے حقوق علمبرداروں، سیاسی کارکنوں،سوشل میڈیا اکٹویسٹ سمیت سیاسی اور طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ19 اپریل کو تمام لاپتہ افراد،سندھی مہاجر،پشتون اور بلوچوں کی بحفاظت بازیابی کے لئے ایک سوشل میڈیا کیمپین کا انعقاد کیا جارہا ہے لہذا تما م انسان دوست حضرات اس کیمپین میں شرکت کرکے انسانی دوستی کا ثبوت دیں.