بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے سامی کے مقام پر علاقہ مکینوں کی جانب سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوانوں کی بازیابی کیلئے 24گھنٹوں سے کوئٹہ ٹو تربت شاہرہ مکمل طور پر بند ہے۔
لاپتہ کئے جانے والے بدیر حبیب اور طارق بشیر طالب علم ہیں جنہیں کو گذشتہ روز فورسز نے عمری کہن سے حراست میں لیکر جبراً لاپتہ کیا تھا۔
فورسز ہاتھوں دونوں نوجوانوں کی جبری گمشدگی کیخلاف علاقہ مکینوں اور نوجوانوں کے لواحقین نے مرکزی شاہراہ کو احتجاجاً دھرنا دیکربند کردیا تھا جو ہنوز بندہے۔
ذرائع کے مطابق احتجاجی خواتین اور انتظامیہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا تیسرا دور بھی ناکام ہوگیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق احتجاج سے شاہراہ کی بند ش باعث کوئٹہ سے تربت اور گوادر کا زمینی رابطہ منقطع، ہوگیا ہے جس کی وجہ سے گاڈیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور سینکڑوں مسافر صبح سے پھنسے ہوئے ہیں۔
ذرائع بتاتے ہیں کہ مسافروں میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔اور14 گھنٹوں سے مسافر بھوکے، پیاسے سفر کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔
قریبی دکانوں میں کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نوجوانوں کو فوری رہا کیا جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو قوانین کے تحت انہیں حراست میں لیکر عدالت میں پیش کیا جائے۔