پاکستان کے سابق وزیر اعظم اورچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے این آر او ون جبکہ جنرل قمر باجوہ نے این آر او ٹو دیا ہے جس کے تحت کرپشن کے مقدمات معاف ہو رہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ان سات مہینوں میں جس طرح ہمارے ساتھ کھلی دشمنی کی گئی وہ کبھی نہیں دیکھی، گمنام نمبروں سے فون آ رہے تھے کہ عمران خان کا ساتھ چھوڑ دو۔
’جو ارشد شریف، اعظم سواتی، شہباز گل اور جمیل فاروقی کے ساتھ ہوا وہ صرف اس لیے ہوا کیونکہ ہمارے حق میں بیانات دے رہے تھے۔‘
عمران خان نے کہا کہ جنرل مشرف کے مارشل لا کے دور میں بھی انسانی حقوق کی وہ خلاف ورزی نہیں دیکھی جو اس دفعہ ہوئی۔
اُنھوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے پاکستان کے ساتھ وہ کیا ہے جو کوئی دشمن نہ کر سکے۔
عمران خان نے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس معاشی گرداب سے ملک کو کون نکالے گا۔
’پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی، قومی سطح کی اور وفاقی جماعت ہے، اسے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔‘
عمران خان کہا کہنا تھا کہ ان کا منھ بند کرنے کے لیے ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا لیکن یہ منھ نہیں بند ہو گا۔
’ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کے خلاف ایکشن لینے سے ادارے کا وقار بلند ہوتا ہے۔‘
اپنے خلاف کیسز پر بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا یک نکاتی ایجنڈا ہے کہ انھیں نااہل کیا جائے۔
اُنھوں نے کہا کہ جس وقت بھی توشہ خانہ کیس عدالت میں جائے گا، یہ ثابت ہو جائے گا کہ ہر چیز اخلاقی اور قانونی طور پر جائز کی ہے۔
’فارن فنڈنگ کیس کی بھی جب تحقیقات ہوں گی تو واضح ہو جائے گا کہ تحریکِ انصاف واحد جماعت ہے جس نے درست انداز میں فنڈنگ کی ہے۔‘