اسکولوں کو نذر آتش کرنا قوم کیخلاف سازش ہے،بی ایس اے سی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں بلوچستان میں اسکولوں کو تسلسل کے ساتھ نذر آتش کرنے کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل کا بنیادی کا محرک تعلیم دشمن عناصر کا بلوچ نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھنا ہے۔ اس سازشی عمل کے خلاف تنظیم ہر فورم پر جدوجہد کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اسکولوں کو جلا کر خاکستر کیا جارہا ہے۔ اس اثنا میں ضلع کیچ کے تحصیل بلیدہ میں کلکشان اسکول کو آگ لگا کر خاکستر کیا گیا اور پسنی کے علاقے وڈ سر، ریک پشت میں گرلز پرائمری اسکول کے انفرا اسٹرکچر کو جلا کر خاکستر کیا گیا۔ کیچ کے ہی علاقے دازن میں خان کلگ ہائی اسکول کو سازشی عناصر اور آلہ کاروں کی جانب سے آگ لگا کر راکھ بنا دیا گیا اور اسکول میں تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل روک دیا گیا۔ رواں ہفتے وندر کے علاقے سونمیانی میں پرائیویٹ تعلیمی ادارہ ٹی سی ایف پر شرپسند عناصر نے حملہ کر کے آگ لگا دی گئی جس سے تعلیمی ادارے کی انفراسٹرکچر جل کر راکھ ہوگئی۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان ایک ایسا خطہ ہے جہاں خواندگی کی شرح تسلسل کے ساتھ گراوٹ کا شکار ہورہی ہے اور نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کیلیے غیر سماجی اور غیر معاشرتی سرگرمیوں کو مزید فعال کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے عمل نوجوان نسل میں خوف و ہراس کا باعث بن کر طالبعلموں کی راہ میں مزید رکاؤٹ کا حائل بنے گی جو کہ نہایت ہی تشویشناک ہے۔ بلوچ طلبا تنظیم کے حیثیت سے اس عمل کی نہ صرف مزمت کرتے ہیں بلکہ اس سازشی عمل کے خلاف عملی بنیادوں پر جدوجہد کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment