پشتونخوا میپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں اگر برابری کا حق اور بھائی کی طرح قبول نہیں کیا جاتا ہے توبلوچستان کو تقسیم کرکے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میری ان سے درخواست ہے اسے دھمکی نہ سمجھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر تمام معاملات میں برابری کا حصہ نہیں ملتا تو برٹش بلوچستان کو الگ کرکے اس کا نام افغانیہ رکھ دیں گے۔ اس طرح گزارہ ممکن نہیں، بلوچ بھائی سن لیں ورنہ بلوچستان کو کیک کی طرح کاٹ کر تقسیم کردیں گے۔
محمود اچکزئی نے کہا کہ برٹش بلوچستان میں بگٹی اور چاغی کے علاقوں کو شامل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔
واضع رہے کہ محمودخان اچکزئی نے گذشتہ روز کوئٹہ میں اپنے ایک جلسے میں برٹش بلوچستان کی افغانیہ کے نام سے بحالی کی بات کی جس پر بلوچ قوم پرست وآزادی پسند سیاسی تنظیم بلوچ نیشنل موومنٹ(بی این ایم)اسے بلوچ اور پشتون برادر اقوام کے درمیان مخاصمانہ تضاد پیدا کرنے کی کوشش قرار دیاتھا اور کہا تھاکہ اس کا فائدہ صرف قابض اور استعماری قوت پنجابی اٹھائے گا اور برادر اقوام کے درمیان دوریاں پیدا کرے گا۔
سیاسی حلقوں کے مطابق محمود خان اچکزئی پاکستانی فوج کے ایک مستحکم محرہ ہیں جسے پشتون اور بلوچ کی بھائی چارے و برابری کا غم نہیں کھائے جارہا بلکہ اس کے آقا بلوچستان میں جاری بلوچ تحریک آزادی سے خوف زدہ ہیں اس لئے اسے سیاسی طور پر استعمال کرکے بلوچ و پشتون بھائی چارے میں دراڑ ڈھالنے کی کوشش کی جاری ہے۔
سیاسی حلقوں کے مطابق محمودخان اچکزئی کا پنجابی فوج کے ساتھ قربت سے اس کے پارٹی میپ کے رہنما بھی واقف ہیں اسی لئے میپ میں دراڑ پڑ گئی ہے۔