امریکا نے جنوبی ایشیائی القاعدہ اور 4پاکستانی طالبان رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دیدیاہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق دہشت گرد قرار دیے گئے شدت پسندوں میں القاعدہ برصغیر پاک و ہند جو جہادی نیٹ ورک کی ایک علاقائی شاخ ہے کے چار رہنما شامل ہیں جس میں تنظیم کا امیر اسامہ محمود بھی شامل ہے۔
امریکا نے پاکستانی طالبان کے سینئر رہنما مفتی حضرت ڈیروجی جو قاری امجد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو بھی دہشت گرد قرار دیا ہے جب کہ تنظیم کی جانب سے 15 سال سے جاری پر تشدد کارروائیوں میں گزشتہ سال افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد تیزی آگئی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مفتی حضرت ڈیروجی خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا نگران تھا جو کہ ملک میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار دو صوبوں میں سے ایک ہے۔
سیکریٹری آف اسٹیٹ انٹونی بلنکن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان افراد کو دہشت گرد قرار دینا ہماری انتھک کوششوں کا حصہ ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ دہشت گرد افغانستان کو عالمی دہشت گردی کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہ کرسکیں۔
انٹونی بلنکن نے کہا ہم اپنے اس عزم کو برقرار اور جاری رکھنے کے لیے تمام متعلقہ وسائل کا استعمال کریں گے کہ عالمی دہشت گرد افغانستان میں سزا کے بغیر کام کرنے کے قابل نہ ہوں۔
اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اینڈ ٹریژری ڈپارٹمنٹ نے ان چاروں ملزمان کو ’اسپیشلی ڈیزگنیٹڈ گلوبل ٹیررسٹ‘ کے طور پر فہرست میں شامل کرلیا، اس نامزدگی کے بعد امریکا میں ان ملزمان کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرنا جرم بن گیا اور ملک میں موجود ان کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے۔
صدر جو بائیڈن نے 2 دہائیوں کے بعد افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا کرتے ہوئے کہا کہ اب مزید کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا اور امریکا وہاں رہے بغیر بھی دہشتگردوں سے لڑ سکتا ہے۔