پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے، جنرل باجوہ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ کوئی ایک پارٹی پاکستان کو اس معاشی بحران سے نہیں نکال سکتی، اس کے لیے سیاسی استحکام لازم ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سٹیک ہولڈر اپنی ذاتی انا کو ایک سائیڈ پر رکھ کر ماضی سے غلطیوں سے سیکھیں اور پاکستان کو اس بحران سے نکالیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی رو کو سمجھتے ہوئے اور عدم برداشت کو ختم کرتے ہوئے ایک سچا جمہوری کلچر پیدا کریں۔ 2018 کے الیکشن میں بعض پارٹیوں نے آر ٹی ایس کو بہانہ بنا کر جیتی ہوئی پارٹی کو سلیکٹڈ کا لقب دیا اور 2022 میں اعتماد کا ووٹ کھونے کے بعد ایک پارٹی نے دوسری پارٹی کو امپورٹڈ کا لقب دیا۔‘

’ہمیں اس رویے کو رد کرنا ہو گا۔ ہار جیت سیاست کا حصہ ہے اور ہر پارٹی کو اپنی فتح اور شکست کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہو گا۔ رائے عامہ احترام کا نام ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ فوج اور عوام میں دراڑ ڈال دیں گے وہ بھی ہمیشہ ناکام ہوں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ’کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں ایک بیرونی سازش ہو اور مسلح افواج ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں گی؟ یہ ناممکن ہے بلکہ یہ گناہ کبیرہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ فوج کی قیادت کے پاس اس نامناسب یلغار کا جواب دینے کے لیے ذرائع اور مواقع موجود تھے لیکن فوج نے ملک کے وسیع تر مفاد میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور کوئی بھی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔

قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’لیکن یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ اس صبر کی بھی ایک حد ہے۔ میں اپنے اور فوج کے خلاف اس نامناسب اور جارحانہ رویے کو درگزر کر کے آگے بڑھنا چاہتا ہوں کیونکہ پاکستان سب سے افضل ہے باقی سب کچھ آتی جاتی رہتی ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’فوج نے تو اپنا کیتھراسس شروع کر دیا ہے مجھے امید ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں بھی اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گی۔ ’ہمیں غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔‘

آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ تنقید سیاسی پارٹیوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا چناؤ اور استعمال میں احتیاط برتی جانی چاہیے۔

’ایک جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور ابھی اسی جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جا رہی ہے۔‘

آرمی چیف نے مزید کہا کہ سینیئر لیڈر شپ کو نامناسب القابات سے پکارا گیا۔

’میں واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فوج کی قیادت کچھ بھی کر سکتی ہے مگر کبھی بھی ملک کے مفاد کے خلاف نہیں جا سکتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چند حلقوں نے فوج کے سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور غیر شائستہ زبان استعمال کی۔

’میں کافی سال سے اس بات پر غور کر رہا تھا کہ دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہندوستانی فوج کرتی ہے مگر ہم کم و بیش ہی ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘

’اس کے برعکس ہماری فوج جو قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے، تنقید کا نشانہ بنتی ہے۔‘

’میرے نزدیک اس کی سب سے بڑی وجہ گذشتہ 70 سال کی فوج کی سیاست میں مداخلت ہے جو کہ غیر آئینی ہے۔ اس لیے پچھلے سال فروری میں کافی سوچ و بچار کے بعد فوج نے فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج کسی سیاسی معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں تاہم اس آئینی عمل کا خیرمقدم کرنے کے بجائے چند حلقوں نے آرمی کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر بہت غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا۔‘

پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں آج آپ کے سامنے ایک اور موضوع پر بھی بات کرنا چاہتا ہوں جس پر عموماً لوگ بات کرنے سے گریز کرتے ہیں اور یہ بات ہماری 1971 کی فوج کی کارکردگی سے متعلق ہے۔‘

آرمی چیف نے کہا کہ ’سابقہ مشرقی پاکستان ایک فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی۔ لڑنے والے فوجیوں کی تعداد 92 ہزار نہیں صرف 34 ہزار تھی، باقی لوگ حکومت کے مختلف محکموں میں تھے اور ان 34 ہزار کا مقابلہ ڈھائی لاکھ انڈین آرمی، دو لاکھ مکتی باہنی کی ٹرینڈ آرمی سے تھا۔‘

’اس سب کے باوجود ہماری فوج بہت بہادری سے لڑی اور بے مثال قربانیاں پیش کیں۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی قربانیوں اور بہادری کا اعتراف انڈین آرمی چیف نے بھی کیا۔

’ان بہادر سپاہیوں کی قربانیوں کا اعتراف آج تک کسی نے نہیں کیا جو ایک بڑی زیادتی ہے۔‘

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یہ بھی کہا کہ ’فوج کا بنیادی کام جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے مگر پاکستان فوج اپنی استعدداد سے بڑھ کر قوم کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ریکوڈک کا معاملہ ہو یا کارکے کا جرمانہ، فیٹف کے نقصان ہوں یا فاٹا کا انضمام، سرحد پر باڑ لگانا یا قطر سے سستی گیس منگوانا یا دوست ملکوں سے قرض کا اجرا ہو یا کووڈ کا معاملہ، سیلاب کے دوران امدادی کام ہو یا کچھ اور فوج نے ہمیشہ اپنی استعدداد سے بڑھ کر کام کیا ہے۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment