پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا کے اضلاع لکی مروت اور باجوڑ میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر الگ الگ حملوں میں مجموعی طور پر8 اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ لکی مروت میں پولیس وین پر مبینہ عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 6 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
باجوڑ انتظامیہ میں شامل اہلکاروں اور باجوڑ سے تعلق رکھنے والے صحافی انوار اللہ خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چارجنگ کے علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں کے حملے میں سیکیورٹی فورسز کے دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے ہلال خیل میں مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 2 فوجی اور ایک حملہ آور ہلاک ہوگیا۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کوہاٹ کے رہائشی 33 سالہ نائیک تاج محمد اور مالاکنڈ کے 30 سالہ لانس نائیک امتیاز خان ہلاک ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ 15 اور 16 نومبر کی رات کو باجوڑ کے علاقے ہلال خیل میں سیکیورٹی فورسز و مسلح افراد کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
لکی مروت کے ضلعی پولیس دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق واقعہ تھانہ ڈاڈیوالہ کی حدود میں پیش آیا۔ حملہ آوروں نے چوکی عباسہ خٹک کی پولیس وین کو نشانہ بنایا۔ جس کے نتیجے میں ڈیوٹی انچارج سب انسپکٹر اور ڈرائیور سمیت چھ اہلکار ہلاک ہوگئے۔
واقعے کے بعد پولیس کی مزید نفری کو طلب کرلیا گیا اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں ملک بالخصوص خیبرپختونخوا میں پولیس پر ہونے والاعسکریت پسندوں کا یہ بڑا حملہ ہے۔
تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
ٹی ٹی پی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حملہ آور ہلاک پولیس اہلکاروں کے زیرِاستعمال سرکاری اسلحہ اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں دونوں واقعات اور اس کے نتیجے میں 10 اہلکاروں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک روز قبل سیکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی میں لکی مروت سے ملحقہ ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سات مبینہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
تاہم ٹی ٹی پی نے اپنے بیان میں الزام لگایا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی سے قبل اس مقام پر امریکی ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔